کشمیر کی کہانی — Page 140
خدمات سرانجام دینے کے بعد جب وہ پنجاب میں سول جج مقرر ہوئے تو انہیں مجبوراً پنجاب آنا پڑا۔اُن کی نیک یاد آج تک پرانے لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔قاضی عبدالحمید وکیل قاضی عبدالحمید وکیل امرتسر نے شروع مئی ۳۲ء میں اپنے آپ کو وقف کیا۔اور اسی وقت اُن کو راجوری پہنچنے کی ہدایت ہوئی۔چنانچہ قاضی صاحب فوری طور پر راجوری پہنچ گئے اور مقدمات کی پیروی شروع کر دی۔چودھری عزیز احمد جب پونچھ سے واپس پنجاب چلے گئے تو قاضی صاحب کو پونچھ بھجوا دیا گیا۔پونچھ میں خاصی تعداد میں مقدمات چل رہے تھے۔کچھ مقدمات وزیر کی عدالت میں تھے جسے ہائی کورٹ کا درجہ حاصل تھا۔اور بقیہ سیشن حج اور دوسرے مجسٹریٹوں کی عدالتوں میں تھے اور سب نہایت سنگین نوعت کے تھے ( قتل، آتش زنی ، ڈاکہ اور بلوہ ہر قسم کے مقدمات تھے ) قاضی صاحب نے بڑی محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔سب مقدمات کے نتائج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملزمان کے حق میں برآمد ہوئے الا ماشاء اللہ۔تین ماہ راجور کی وغیرہ میں اور پانچ ماہ پونچھ میں خدمات سرانجام دینے کے بعد آخر دسمبر ۳۲ء میں واپس امرتسر پہنچے۔چودھری محمد عظیم باجوہ نے جموں میں اور پھر میر پور میں کام کیا۔جب پونچھ میں کام بڑھ گیا تو ان کو وہاں بھجوا دیا گیا تا کہ وہ پبلک کے ساتھ رابطہ قائم رکھیں اور ہر مشکل کے موقع پر اُن کی امداد کر سکیں۔اس کام کے علاوہ چودھری محمد عظیم نے وکلاء کے ساتھ پورا تعاون کیا اور ہمیشہ اُن کے مد و معاون رہے۔میر پور میں مولا نا ظہور الحسن فاضل کام کرتے رہے۔میر محمد بخش نوشہرہ میں میر محمد بخش چھ ماہ جموں میں کام کرنے کے بعد نوشہرہ پہنچے۔یہ کیس بھی بہت اہم تھا 144