کشمیر کی کہانی — Page 132
محترم نے لاہور سے چودھری اسد اللہ خاں ( بیرسٹر ) کو میر پور بھجوایا۔جموں میں مڈلٹن کمیشن اور گلینسی کمیشن کا کام قریبا ختم تھا۔اس لیے وہاں سے چودھری عزیز احمد باجوہ ( وکیل ) کو اور سری نگر سے چودھری عصمت اللہ (وکیل) کو میر پور وغیرہ بھجوایا گیا۔اس طرح ہر طرف قانونی امداد کا احسن طریق پر انتظام ہو گیا۔سیاسی کارکن وکلاء کے علاوہ دوسرے کارکنان کی بھی ضرورت تھی۔اس لیے اپیل کی گئی کہ گریجویٹ اور مولوی فاضل اور اس سے کم تعلیم کے لوگ اپنے آپ کو آنریری خدمات کے لیے پیش کریں تاکہ ان کے سپر د خدمت کی جاسکے سینکڑوں لوگوں نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لیے پیش کر دیا۔میر پور کے علاقہ میں زیادہ کارکنوں کی ضرورت تھی۔جموں سے چودھری محمد عظیم ( باجوہ ) میر پور جاچکے تھے۔دوسرے کارکنوں کی ایک ٹیم مولا نا ظہور الحسن کی سرکردگی میں بھجوائی گئی۔مولانا بڑے جو شیلے کارکن ہیں وہاں خوب کام کیا ناصر میر پوری کا نام اخبارات میں کثرت سے آتا تھا۔یہ ناصر میر پوری مولانا ظہور الحسن ہی تھے۔تخفیف کا بہانہ خلیفہ عبدالرحیم ریاست میں بڑے اہم ذمہ داری کے عہدوں پر نہایت قابلیت سے کام کر چکے تھے ان کی ملازمت کا ریکارڈ بھی بہت شاندار تھا۔لیکن وزیر اعظم کو کانٹے کی طرح کھٹکتے تھے۔اس لیے ریاست کی مالی حالت کے پیش نظر تخفیف کا بہانہ بنا کر ان کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔حالانکہ اس نام نہاد تخفیف کے سلسلہ میں جو تغیرات کئے گئے اُن میں کئی ہند و ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دی گئی۔یہ ذکر میں نے اس لیے کر دیا ہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ ریاست کس نہج پر چل رہی تھی۔خلیفہ صاحب کو دوبارہ ملازمت پر لانے کے لیے کافی کوشش کرنا پڑی۔136