کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 131 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 131

سجادہ نشیں جلال پور کی اپیل جناب سید فضل شاہ سجادہ نشیں جلالپور نے ایک اپیل شائع کی جس میں لکھا: اعتراض کیا گیا ہے کہ کمیشن کے سامنے قادیانی وکلاء پیش کئے جاتے ہیں مگر یہ بھی خلیفہ صاحب قادیان کی مہربانی ہے جو مظلوموں کی امداد فرما کر وکلاء روانہ کرتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں۔۔۔۔آپ نے آج تک کس قدر وکلاء جموں کشمیر روانہ کئے ہیں۔۔۔۔میں ابھی تک اپنے حلقہ اثر کے دو ہزار آدمی جیلوں میں روانہ کر چکا ہوں مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح مظلوموں کی رہائی نہیں ہوسکتی۔۔۔۔جناب صدر صاحب آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اپنے مظلوم بھائیوں کو ہر طرح سے امداد بہم پہنچائی ہے۔مگر آپ لوگ ہمیشہ ان کے خلاف مضمون تحریر کر کے فتنہ پیدا کرنا چاہتے ہیں“ صدر محترم کے حضور وفد فروری ۳۲ ء کے تیسرے ہفتہ میں سری نگر ، جموں ، میر پور، راجوری، بھمبر وغیرہ کے نمائندوں کا ایک وفد صدر کشمیر کمیٹی سے ملاقات کے لیے آیا۔سب نے اپنے اپنے علاقہ کے حالات اور مشکلات پیش کیں اور اپنی ضروریات آپ کے سامنے رکھیں حسب سابق اُن کی ہر طرح دلجوئی کی گئی اور امداد کے ضروری انتظامات کئے گئے۔وکلاء کا انتظام میر پور کے علاقہ میں بڑی کثرت سے مقدمات چل پڑے تھے۔اس لیے ان مقدمات کی پیروی کے لیے قابل وکلاء کی ضرورت تھی۔جموں کے مقدمات کی پیروی میر محمد بخش (وکیل ) اور وادی کے مقدمات کی پیروی شیخ بشیر احمد ( ایڈووکیٹ ) کر رہے تھے۔صدر 135