کشمیر کی کہانی — Page 130
کسی قسم کی کدورت رکھے بغیر محض اس کی پامال شدہ مخلوق کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہوں ) اس نیک مقصد میں میرا ضرور معاون و مددگار ہوگا۔“ سر ہری کشن کول کی علیحدگی اس ساری جدوجہد کا خاطر خواہ اثر ہوا مہاراجہ کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ سر ہری کشن کول کو وزارت عظمی کے عہدہ سے علیحدہ کر دے چنانچہ ایک دن یہ حیران کن خبر اخبارات میں شائع ہوئی کہ کول صاحب خرابی صحت کی بنا پر مستعفی ہو گئے ہیں۔حالانکہ چند روز پہلے تک ان کا رویہ ایسا تھا کہ گویا وہ ساری عمر ہی اس عہدہ پر قائم رہیں گے۔مخالف عناصر کی پردہ کشائی عین اس وقت جب کہ کشمیر کے مظلومین کی ہر رنگ میں مدد ہو رہی تھی کشمیریوں کے اس محسن کے خلاف چند لوگوں نے فتنہ برپا کرنے کی کوششیں پہلے سے بھی تیز کر دیں۔جس پر کشمیریوں کے حقیقی بہی خواہ ایسے عناصر کی صحیح تصویر پبلک کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہوئے مشہور شاعر حضرت حسن نے فرمایا:۔آج پید اہوئے ہیں کچھ احرار دشمن قوم آپ اپنی مثال کام ان کا فساد وفتنہ وشر اور نظام ان کا لوٹ لینا مال ان کے چکموں سے کوئی بچ نہ سکا خشک ہوجائے ان کی برکت دہلی ہو یا حصار یا کرنال چرا پونچی ہو یا کہ نینی تال پڑھ کے تکبیر لوٹ لیتے ہیں ور نہ کر دیتے ہیں وہیں ہڑتال حق کے دشمن ہیں جھوٹ کے حامی بارہا اُن کی ہو چکی پڑتال 134