کشمیر کی کہانی — Page 13
سے اپنے مؤقر جریدہ لاہور میں شائع کرنا شروع کیا ابھی لاہور میں اس کی چند قسطیں ہی شائع ہوئی تھیں کہ مشرقی پاکستان کے ایک وقیع ماہنامے نے بھی ان کا بنگالی ترجمہ شائع کرنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ہی وطن عزیز کے دونوں حصوں سے اس ساری کہانی کو جلد از جلد کتابی صورت میں شائع کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔میں نے اس مضمون کی ترتیب 1965ء میں شروع کی تھی مگر میری مصروفیات کے باعث یہ سلسلہ تین سال کے طویل عرصے پر پھیل گیا حتی کہ میری مقدرت واستطاعت کو ایک عظیم محسن کے کریمانہ التفات کا سہارا میسر آ گیا اور میں اسے بالآ خر کتابی صورت میں پیش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔وہ جو اپنے فضل سے اکثر اوقات اپنے بے مایہ۔نالائق اور بے بضاعت بندوں کی۔کمزور مساعی میں بھی برکت ڈال دیتا ہے آخر میں میری بھی اُسی جلیل وقد بر خدا سے عاجزانہ التجا ہے کہ وہ اپنے لطف و کرم سے میری اس ناچیز کوشش کو بھی قبول فرمالے۔آمین ثم آمین خاکسار ظہور احمد 17 ۲۲ رمئی ۱۹۶۸ء