کشمیر کی کہانی — Page 124
۔اور کارکنوں اور سرمایہ کے لیے تحریک کی تو اول تو دیانت دار کارکن نہیں ملیں گے اور سرمایہ جمع نہیں ہوگا۔اور جو سرمایہ جمع ہوگا وہ بے ایمان کارکن کھا جائیں گے اور اس دوران میں مہاراجہ تحریک کو کچل کر رکھ دے گا کام فوراً شروع ہونا چاہیے۔ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں صرف ایک ہی شخصیت ہے کہ اگر وہ اس تحریک کی قیادت منظور کرلے تو دیانتدار کارکن بھی مہیا کرلے گی سرمایہ بھی جمع کرلے گی وکلاء وغیرہ بھی وہ خود دے گی اخبارات میں ولایت میں اور یہاں بھی پرا پیگنڈہ وہ خود کرلے گی۔اور وائسرائے اور اس کے سیکرٹریوں سے ملاقات بھی خود کرلے گی وہ شخصیت مرزا محموداحمد ہیں۔۔66 چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے فیئر ویو (FAIR VIEW) کوٹھی شملہ میں ۲۵ / جولائی ۱۹۳۱ء کو اپنی سکیم کو اس وقت عملی جامہ پہنایا۔جب کہ انہوں نے صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا انتخاب کیا۔اور جس تقریب کا آنکھوں دیکھا حال پہلے آچکا ہے۔128