کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 117 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 117

ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں صرف ایک ہی شخصیت ہے اگر وہ اس تحریک کی قیادت منظور کرلے تو دیانتدار کارکن بھی مہیا کر لے گی۔سرمایہ بھی جمع کرلے گی۔وکلاء وغیرہ بھی وہ خود دے گی۔اخبارات میں ولایت میں اور یہاں بھی وہ پراپیگنڈہ کا اہتمام کر لیگی اور وائسرائے اور اس کے سیکرٹریوں سے بھی مل لے گی۔۔۔بدعهدی سری نگر۔شوپیاں اور جموں وغیرہ میں ریاستی فوج اور پولیس نے ۳۱ء میں وہاں کے باشندگان کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا تھا اُس کی یادا بھی لوگوں کے دلوں سے محونہ ہو پائی تھی۔جن مستورات کے خاوند شہید کر دیے گئے۔بچے یتیم ہوئے۔وہ بوڑھے والدین جو اپنے جوان لڑکوں سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھے۔وہ سب کے سب ابھی خون کے آنسورور ہے تھے کہ ۱۹۳۲ء کا آغاز میر پور، راجوری، ریاسی ، کوٹلی وغیرہ میں نہایت بہیمانہ اور المناک حادثات سے ہوا۔سمجھوتے کی تعمیل سے گریز جموں کے باشندگان کی طرف سے صدر کشمیر کمیٹی کو یہ شکایات موصول ہونا شروع ہوگئیں کہ مسٹر لا تھر کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا تھا اس کی تعمیل نہیں ہورہی۔فسادیوں کے خلاف بعض مقدمات کی ضمنیاں تیار ہو چکی تھیں۔لیکن چالان عدالت میں پیش کرنے سے روک دیئے 121