کشمیر کی کہانی — Page 100
ہاؤس بوٹ سے اوپر بند پر گیا۔تو عین اس وقت ایک سب انسپکٹر نے بجلی کے پول پر ایک نوٹس لگانا چاہا۔مگر اس طریق سے کہ میں اُسے دیکھ لوں۔میں نے وہ نوٹس اُس سے یہ کہہ کر لے لیا کہ میں اس کی نقل ٹائپ کر کے واپس کر دوں گا۔محترم در دصاحب کو جا کر دکھایا پھر اس کی چند کا پیاں ٹائپ کیں۔اور نوٹس سب انسپکٹر کو واپس کر دیا۔جس نے اُسے چسپاں کر دیا۔صدر محترم نے مہاراجہ کو جو تار دیا تھا اس کی تائید جلسہ عام میں تو ہو گئی تھی۔نمائندگان کی طرف سے ایک اور میموریل ان کی درخواست اور مشورہ کے بعد محترم در دصاحب نے تیار کیا۔یہ میموریل بھی تاریخ کشمیر میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس میں ۱۹ اکتوبر کے مطالبات کو جلد پورا کرنے اور پتھر مسجد جو و اگزار ہوئی تھی اس کے علاوہ دوسرے مذہبی مقامات کو واگزار کرنے پر زور دیا گیا تھا۔میر واعظ (احمد اللہ صاحب ہمدانی ) ان دنوں اسلام آباد میں تھے راقم الحروف وہ میموریل اُن کے پاس لے گیا۔انہیں پڑھ کر اور ترجمہ کر کے سنایا انہوں نے بھی بڑی خوشی سے اُس پر دستخط کر دیے۔۱۱/ نومبر کو مہاراجہ کی طرف سے مطالبات کے جواب میں مفصل اعلان ہوا۔مڈلٹن کمشن ( گواس کا ذکر اعلان میں نہ تھا) اور گلینسی کمیشن مقرر کر دیے گئے۔پہلا کمیشن فسادات کی وجہ اور ذمہ داری کی تحقیق اور دوسرا مطالبات پر غور کرنے کے لیے کلینسی کمیشن میں موجود دومسلمان لیے گئے۔وہ نمائندگان میں سے تھے۔کشمیر کے صوبہ سے خواجہ غلام احمد عشائی اور جموں کے صوبہ سے چودھری غلام عباس تھے۔غیر مسلموں کی طرف سے مشہور صحافی تاریخ دان پنڈت پریم ناتھ بزاز بھی اس کمیشن کے ایک رکن تھے۔ان کے علاوہ جموں کا ایک ہندو تھا۔104