کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 89 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 89

ذلیل کر کے نکالوں گا۔اس پر مولوی عبد اللہ وکیل نے کھڑے ہو کر پبلک سے دریافت کیا کہ جولوگ اس شخص کی تقریر سے ناراض ہیں اور خواجہ احمد اللہ کی تائید میں ہیں۔ہاتھ کھڑے کریں سب نے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور اس ذلت کے بعد یہ صاحب واپس لوٹے ان کے اسٹیج سے بٹتے ہی ” آل انڈیا کشمیر کمیٹی زندہ باد کے نعرے بلند ہونے شروع ہو گئے۔۱۳ ۱۷ کتوبر کو یہی صاحب جامع مسجد میں گئے لیکن مسلمانوں نے انہیں یہ کہہ کر وہاں سے بھی نکل جانے کو کہا کہ ہمیں آپ کی راہنمائی کی ضرورت نہیں آپ ہمارے نمائندہ نہیں وہ مجبوراً مسجد سے باہر نکل آئے اور پھر کشمیر کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ گئے۔ہمارے کشمیر پہنچنے کے چند روز بعد آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوسرے ممبر بھی سری نگر پہنچنا شروع ہو گئے۔پہلے مولانا اسمعیل غزنوی اور مولانا مظہر الدین (ایڈیٹر الامان دہلی ) آئے۔اور اُن کے کچھ دن بعد مولانا سید حبیب (ایڈیٹر سیاست ) اور پھر مولانا سید میرک شاہ صاحب تشریف لائے۔باقی اراکین تو تھوڑا تھوڑا عرصہ قیام کرنے کے بعد واپس چلے جاتے رہے۔لیکن صدر محترم کی ہدایت کے ماتحت مولانا اسمعیل غزنوی اور مولانا سید میرک شاہ صاحب سری نگر ہی میں رہے۔مولا نادر دصاحب تو پہلے ہی یہاں موجود تھے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی ہر دلعزیزی کے ثبوت کے لیے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ ہر جلسہ جو مسلمانانِ کشمیر کی طرف سے ہوتا ( اور جلسے آئے دن ہوتے رہتے تھے ) اس کی صدارت کمیٹی ہی کے کسی نہ کسی رکن کے سپرد کی جاتی تھی گو دوسرے اراکین کو بھی تقریریں کرنے کی درخواست کی جاتی تھی۔مسلم اخبارات اورا کابرین کا اعلان صدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے انتہائی کوشش کی کہ سب مسلمان مل کر کام کریں 93