کشمیر کی کہانی — Page 273
خدا لگتی ان شرائط کے دینے کے بعد چودھری صاحب نے وہ امور لکھے ہیں جو نیشنل کانفرنس کے قیام کے سلسلہ میں اثر انداز ہوئے لیکن دل لگتی بات صرف اور صرف یہ ہے جو چودھری صاحب نے اس کے آخر میں لکھ دی ہے:۔اس میں میری ذاتی کمزوری کو بھی دخل تھا۔گذشتہ آٹھ سال کی شدید اور مسلسل سیاسی کشمکش نے جس میں ہر قسم کی جسمانی روحانی مالی پریشانی اور بے اطمینانی شامل تھی۔میری سیاسی کمر ہمت کو اس قدر توڑ دیا تھا کہ میں تن تنہا اس وقت علیحدہ تنظیم کا حامل نہیں ہوسکتا تھا ( کشمکش مصنفہ غلام عباس صفحه ۲۱۴) راقم الحروف اس جگہ یہ کہنے سے نہیں رک سکتا کہ اگر چودھری صاحب ۳۱ء اور ۳۲ء میں اپنی حالت کی طرف دیکھتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ وہ اس وقت (اُس وقت کے مقابلہ میں ) بہت زیادہ مضبوط ہو چکے تھے۔پھر ان کا وہ محسن جو تحریک کی ابتداء ہی سے ہر قسم کی امداد لے کر پہنچ گیا تھا۔اب بھی ببانگ دہل یہ کہ رہا تھا۔جلدی نہ کرو۔خطا کھاؤ گے۔اگران کی نصیحت پر ان لوگوں نے عمل کیا ہوتا تو وہ ان کو کبھی بے یار و مددگار نہ چھوڑتا لیکن گیا وقت کب کسی کے ہاتھ آیا ہے جو کشمیری راہنماؤں کے ہاتھ آتا۔277