کشمیر کی کہانی — Page 232
تدابیر اختیار کیں۔البتہ چند روز کے بعد اعلان ہو گیا کہ نئی کمیٹی بن گئی ہے اور پرانی کمیٹی توڑ دی گئی ہے۔حالانکہ لا ہور شہر کا کوئی نہایت معمولی پبلک جلسہ نہ اس بات کا حقدار تھا کہ نئی کمیٹی بنا کر اسے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قرار دیتا اور نہ اس امر کا مجاز تھا کہ پہلی کشمیر کو توڑ دیتا۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا تھا کہ کسی بننے والی کمیٹی پر اظہار اعتماد کر دیا جا تا اور پرانی کمیٹی پر بے اعتمادی کی قرار داد منظور کر دی جاتی۔اس حالت میں یہ سمجھا جاتا کہ لا ہور شہر کے ان چند سومسلمانوں کو جو ایک خاص تاریخ کو دہلی دروازہ کے باہر جمع ہوئے تھے۔پرانی کمیٹی کے کام پر اعتماد نہیں اور بس۔لیکن وہ مسلمان اگر چند سو نہیں بلکہ چند ہزار بھی ہوتے تو سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی و نیابت کا منصب سنبھال لینے کے حقدار نہ تھے “ (روز نامه انقلاب لاہور ۱۰ ستمبر ۳۳ ) ( نوٹ از مؤلف؛ انگریزی روزنامہ ٹیٹسمین ۴ جولائی ۳۳ء اور دیگر تمام مشہور اخبارات نے اس کا روائی کو غیر آئینی قرار دیا۔ظ۔۱) گویا گھر کے بھیدی اخبار ” تبصرہ “ کے اس دعوی کو جی ما نا پڑیگا کہ " مرشد اور پیر جی کے درمیان افضل حق کی معیت میں جو متعد د ملاقاتیں ہوئیں۔ان میں یہی طے پایا تھا کہ پہلے عہدہ داروں کو ہٹا کر وو تحریک آزادی کشمیر کی باگ ڈور مجلس احرار کے سپرد کر دی جائے۔۔۔تا کہ یہ فدا کار ریاست کی نمک خواری کا حق ادا کر سکیں۔" ان لوگوں کے متعلق اکابرین کشمیر کی آراء قارئین پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں دراصل یہ لوگ ہندو کانگرس کا حصہ تھے۔اس لیے یہ مجبور تھے کہ عین موقع پر جمہور مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ آرائی کریں۔236