کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 151 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 151

لوگوں کو دے دیئے جائیں۔کا بچرائی کا ٹیکس سات تحصیلوں یعنی جموں ، سانبہ، اکھنور، کٹھوعہ جمیر گڑھ، میر پور اور بھمبر میں منسوخ کر دیا۔اور دیگر علاقوں کے متعلق وزیر مال سے رپورٹ طلب کی گئی۔اسی طرح دھاروں کا ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا قصاب جو جانور حدود میونسپل کمیٹی میں ذبح کرنے کے لیے لاتے تھے اُن سے کا بچرائی کا محصول لیا جاتا تھا۔اُسے بھی بند کر دیا۔اخروٹ وغیرہ کے درختوں کو کاٹنے کے متعلق جو پابندیاں تھیں اُن کو دور کیا گیا۔کوا پر ٹیو قرضہ جات کے نظام کو وسعت اور ترقی دینے کے متعلق احکام جاری ہوئے۔ریاستی پریس ایکٹ جو بہت سخت اور نا قابل برداشت تھا۔اُسے جلد تبدیل کرنے اور برطانوی ہند کے قانون مطابع کے مطابق کر دینے کا بھی مہاراجہ نے حکم دیا۔ان احکام کے علاوہ (جن کا ذکر اوپر آچکا ہے ) مہاراجہ نے کئی دیگر امور کے متعلق بھی احکام دیئے۔مثلاً رشوت ستانی کارسرکار ، جنگلات اور رکھیں ، کشم، مذہبی فریضہ کی بجا آوری۔جانوروں کے ذبح کرنے پر ٹیکس کی معافی وغیرہ وغیرہ ان سب امور کی متعلق احکام جاری کیے۔آئینی جنگ کیوں؟ گلینسی کمیشن کی سفارشات پر مہاراجہ کے احکام کا ذکر میں نے کچھ تفصیل سے اس لیے کیا ہے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ جو لوگ یہ دعوی کرتے تھے کہ ریاست کا مقابلہ آئینی طور پر کیا گیا تو کچھ نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔اُن کو معلوم ہو جائے کہ مسیح طریق یہی تھا کہ جد و جہد کو آئینی لائینوں پر چلایا جائے اور یہ اس کے خوش گوار نتائج ہیں۔لیکن جد و جہد آئینی ہوتی یا غیر آئینی۔انہیں اس سے کیا سروکار۔غرض اپنے حلوے مانڈے کا اہتمام تھا جو چند ہفتے جس طرح بھی میسر آتا رہا حاصل کرتے 155