کشمیر کی کہانی — Page 118
گئے اور باہر سے بھی حسب وعدہ افسران نہیں بلائے گئے۔دوسری طرف میر پور میں عدم ادائیگی مالیہ کا بہانہ بنا کر زمینداروں کو گولیوں اور برچھیوں کا نشانہ بنایا جانے لگا۔بات دراصل یہ تھی کہ اس علاقہ میں اس قدر مالیہ لگا دیا گیا تھا جس کی ادائیگی کاشت کاروں کی طاقت سے باہر تھی اور زمیندار (جن میں ہندو زمیندار بھی شامل تھے ) ریاست سے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ موجودہ مالیہ نا قابل برداشت ہے۔اسے کم کر کے ملحقہ انگریزی علاقہ کے اضلاع ، جہلم، راوالپنڈی وغیرہ کے برابر کر دیا جائے۔انسپکٹر جنرل پولیس ، گورنر جموں اور وزیر وزارات نے 128 فوجی جوان، 50 سوار 45 پولیس مین لیکر عدم ادائے مالیہ کے سلسلہ میں ایک دن میر پور پر چھاپہ مارا۔عورتوں کے زیورات تک اُتار لیے اور گھر کے دیگر ساز و سامان کے علاوہ تمام مویشی بھی قرق کرلیے۔جب یہ حکام جانے لگے تو زمیندار نے رسیدات مانگیں جو نہ دی گئیں۔اس پر نہتے لوگ جانوروں کے آگے لیٹ گئے۔لاٹھی چارج اور فائرنگ کا حکم ہوا اور خوب کشت و خون ہوا۔اس کے بعد ریاسی ، راجوری اور کوٹلی وغیرہ مقامات پر بھی یہی حشر برپا ہوا۔شیخ محمد عبد اللہ صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے ملاقات کرنے اور آئندہ پروگرام کے متعلق غور وفکر اور مشورہ کے بعد واپس سرکی نگر پہنچ گئے۔میر پور کے مظالم کے خبریں جموں اور کشمیر میں برابر پہنچ رہی تھیں۔سری نگر میں برف باری ہو رہی تھی اس کے باوجود ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ ہوا۔جموں میں ریاستی حکام نے اسے ہندومسلم سوال بنادیا سمجھ دار ہند و تو اس جنگ آزادی میں مسلمانوں کے ساتھ تھے لیکن ( اُن کے ) جاہل عوام ریاستی حکام کے ہاتھوں کھیل رہے تھے۔ینگ مینز ایسوسی ایشن کی طرف سے صدر کشمیر کمیٹی کی خدمت میں 122