کر نہ کر

by Other Authors

Page vii of 66

کر نہ کر — Page vii

وہی دوسرے کے لئے کر۔iv (11) تو نامحرم پر ہرگز آنکھ مت ڈال۔نہ شہوت سے نہ خالی نظر سے۔کہ یہ تیرے لئے ٹھوکر کھانے کی جگہ ہے۔(۱۲) تم اپنی عورتوں کو میلوں اور محفلوں میں مت بھیجو۔اور ان کو ایسے کاموں سے بچاؤ کہ جہاں وہ جنگی نظر آویں۔تم اپنی عورتوں کو زیور چھنکاتے ہوئے خوش اور نظر پسند لباس میں کوچوں اور بازاروں اور میلوں کی سیر سے منع کرو۔اور اُن کو نامحرموں کی نظر سے بچاتے رہو تم اپنی عورتوں کو تعلیم دو۔اور دین اور عقل اور خدا ترسی میں ان کو پختہ کرو۔اور اپنے لڑکوں کو علم پڑھاؤ۔(۱۳) جب تو حاکم ہو کر کوئی مقدمہ کرے، تو عدالت سے کر اور رشوت مت لے۔اور جب تو گواہ ہو کر پیش ہو تو سچی گواہی دیدے۔اور جب تیرے نام حاکم کی طرف سے بغرض ادائیگی کسی گواہی کے حکم طلبی کا صادر ہو تو خبر دار حاضر ہونے سے انکارمت کچھ اور عدول حکمی مت کر یو۔(۱۴) تو خیانت مت کر۔تو کم وزنی مت کر اور پورا پورا تول ، تو جنس ناقص کو عمدہ کی جگہ مت بدل۔تو جعلی دستاویز مت بنا۔تو اپنی تحریر میں جعل سازی نہ کر۔تو کسی پر تہمت مت لگا۔اور کسی کو الزام نہ دے کہ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔(۱۵) تو پخلی نہ کر تو گلہ نہ کر تو تمامی نہ کر ، اور جو تیرے دل میں نہیں وہ زبان پر مت لا۔(۱۶) تیرے پر تیرے ماں باپ کا حق ہے۔جنہوں نے تجھے پرورش کیا۔بھائی کا حق ہے۔محسن کا حق ہے۔نیچے دوست کا حق ہے۔ہمسایہ کا حق ہے ہموطنوں کا حق ہے۔تمام دنیا کا حق ہے۔سب سے رتبہ بہ رتبہ ہمدردی سے پیش آ۔(۱۷) شرکاء کے ساتھ بد معاملگی مت کر۔یتیموں اور نا قابلوں کے مال کو خور دبر دمت کر۔(۱۸) اسقاط حمل مت کر۔تمام قسموں کے زنا سے پر ہیز کر۔کسی عورت کی عزت میں خلل