کر نہ کر — Page 23
23 بطور حجت دوسروں کے آگے پیش نہ کر۔تو حتی الوسع اپنی کتا میں لوگوں کو عاریتہ نہ کے طالب علم ! اگر تو سکول کا کام گھر آکر دے ورنہ اکثر واپس نہیں آئیں گی۔تو حصول علم کے لئے سفر بھی اختیار کر۔نہ کرے تو تو نالائق ہے۔اے طالب علم ! اگر تو صرف سکول ہی کا یہ تو ہمیشہ اپنے اُستاد کی عزت کر۔خواہ تُو کام گھر پر کرے تو تو اوسط درجہ کا طالب اس سے بھی بڑا درجہ حاصل کر لے۔تو اپنا علم بڑھانے کے لئے اخبارات اور کے طالب علم ! تو سکول کے کام کے رسائل با قاعدہ اپنے مطالعہ میں رکھا کر۔علاوہ زائد مفید مطالعہ بھی اپنے شوق سے یہ تو کج بحثی سے پر ہیز کر۔کرے تو تو لائق ہے۔تو علم کو دانائی اور روشنی طبع کا ذریعہ سمجھ نہ تو اپنی کتابوں کی دیمک ، چو ہے، جھنگر اور کہ صرف معاش کا وسیلہ۔کیڑے سے حفاظت کر۔تو مطالعہ کے وقت بالعموم بات چیت نہ کر۔ا تو لکھتے ہوئے سیدھی سطریں لکھنے کی مادری زبان کے علاوہ تو اپنی مذہبی زبان عادت ڈال۔ا تو علماء کی عزت کر۔اور حاکم وقت کی زبان کو بھی اچھی طرح سیکھ۔ا جب تو کوئی کتاب خریدے تو پہلے اُس کی یہ تو ایک نوٹ بک اپنے پاس رکھ۔جس جلد بندھو اور اندر اپنا نام لکھ اور پشتہ پر میں کارآمد اور قابل یا د باتیں لکھ لیا کر۔کتاب کا نام لکھ لے۔تو اپنی مجلد کتاب کو دھوپ اور نمی سے بچا تو سکول میں اپنی اولاد کی عمر کم کر کے نہ لکھوا۔۔ورنہ وہ ٹیڑھی ہو جائے گی۔ا تو غور و فکر کی عادت ڈال۔تو اپنی کتاب چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں ہو تو یاد رکھ کہ اس زمانہ میں جس قدر معلومات اخبارات پڑھنے سے مل سکتی نہ دے۔