کر نہ کر

by Other Authors

Page 15 of 66

کر نہ کر — Page 15

15 تو شریفوں کی تذلیل نہ کر۔تو خوبصورت لڑکوں سے بلا وجہ خلا ملا نہ اگر تو ملازم ہے تو اپنا کام محنت اور دیانت رکھ۔سے کر۔تو بزرگوں کے سامنے ننگے سر نہ بیٹھ۔اگر تو افسر ہے تو کسی ماتحت کی حق تلفی نہ کر۔یا تو ہمسایہ کو ادنی ادنیٰ خیر سے محروم نہ رکھ۔اگر تو اپنی عمر دراز کرنی چاہتا ہے تو اپنے یہ تو عموماً سب سے اور خصوصا غریبوں سے غریب رشتہ داروں سے حسن سلوک کر۔حُسنِ اخلاق کے ساتھ پیش آ۔تو عورتوں کی عزت کر۔جب کوئی تجھ سے بات کرے تو تو اس کی دلانے کی کوشش کر۔اگر تجھ سے ہو سکے تو ظالم سے مظلوم کا حق طرف متوجہ ہو۔تو کسی تکیہ کلام کی عادت نہ ڈال۔تو کوشش کر کہ تیری گفتگو ہمیشہ شستہ اور ہو تو فقیر کو روپیہ یا پیسہ بچوں کے ہاتھ سے بلا تصنع ہو۔بھی دلوایا کر۔تو کبھی کسی سازش میں شریک نہ ہو۔تو کسی سٹرائیک اور ہڑتال میں شریک نہ ہو۔تو لوگوں کے ساتھ رواداری سے پیش آ۔تو کبھی اپنی قومیت کو بدل کر پیش نہ کر۔جب ضرورت ہوتو لوگوں کو نرمی سے سمجھا۔یہ تو اپنے مہمان کا اکرام کر۔تو اپنے آپ کو لوگوں کا مخدوم نہ سمجھ بلکہ ملا تو اپنے میزبان پر کسی قسم کا نامناسب بوجھ نہ ڈال۔اُن کا خادم جان۔تو دوسروں کے آرام میں خلل نہ ڈال۔یا تو عورتوں کا گانا نہ سُن۔نہ اُن کا ناچ دیکھ۔کلا تو فقیر اور سوالی کو نہ چھڑک۔تو اپنے بڑے بھائی کو باپ کی جگہ اور تو یتیم پرسختی نہ کر۔چھوٹے کو اپنے بیٹے کی بجائے سمجھے۔ا تو برتنے کی چیزوں کے متعلق اپنے ہو تو اپنی ماں کی قدموں کے نیچے جو جت ہمسائیوں اور غریبوں سے بخل نہ کر۔ہے اُسے حاصل کر۔