کر نہ کر

by Other Authors

Page viii of 66

کر نہ کر — Page viii

V ڈالنے کے لئے اُس پر کوئی بہتان مت لگا۔(۱۹) رو بخدا ہو۔اور روبہ نیا نہ ہو۔کہ دنیا ایک گذر جانے والی چیز ہے اور وہ جہاں ابدی جہان ہے۔بغیر ثبوت کامل کے کسی پر نالائق ہمت مت لگا کہ دلوں اور کانوں اور آنکھوں سے قیامت کے دن مواخذہ ہوگا۔(۲۰) کسی سے کوئی چیز جبر امت چھین۔اور قرض کو عین وقت پر ادا کر۔اور اگر تیرا قرض دار نادار ہے تو اس کو قرض بخش دے اور اگر اتنی طاقت نہیں تو قسطوں سے وصول کر لیکن تب بھی اس کی وسعت و طاقت دیکھ لے۔(۲۱) کسی کے مال میں لا پرواہی سے نقصان مت پہنچا اور نیک کاموں میں لوگوں کو مدد دے۔(۲۲) اپنے ہمسفر کی خدمت کر اور اپنے مہمان سے تواضع سے پیش آ، سوال کرنے والے کو خالی مت پھیر اور ہر ایک جاندار بھوکے پیاسے پر رحم کر۔(حیات احمد جلد اول نمبر ۳ صفحه ۲۵ تا ۲۷) سواسی نمونہ پر اور اسی کی تفسیر کے لئے میں نے یہ رسالہ لکھا ہے۔یہ کتاب پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ ۱۹۴۵ء کے موقع پر چھپی تھی اور تین چار دن میں ساری کی ساری ہاتھوں ہاتھ نکل گئی۔اب دوسرا ایڈیشن ترمیم و تنسیخ کے بعد زیادہ بہتر حالت میں شائع کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے پڑھنے والوں کے لئے مفید بنائے۔آمین اس ایڈیشن میں جنسی معاملات کے متعلق باتوں کو علیحدہ کر کے آخر میں جمع کر دیا گیا ہے۔اس طرح سے یہ کتاب نہ صرف بڑی عمر کے لوگوں کے کام آسکے گی بلکہ سکولوں کے بچے اور بچیاں بھی اسے بے جھجک پڑھ سکیں گے یعنی اگر یہ کتاب کسی لڑکے یا لڑکی کے ہاتھ میں دینی ہو تو آخر کے صفحہ پر سادہ کاغذ چسپاں کر دیں۔خاکسار محمد اسمعيل الصفہ قادیان مورخه ۱۲ ماه امان ۱۳۲۵ء