کر نہ کر — Page 17
17 جیسے چٹور پن بُرا ہے ویسا ہی کھانے پینے کی تو دنیا کے امن کے قیام میں کوشش کر۔میں نخست بھی بُری ہے۔تو اپنے خیالات اور حالات کے اندراج اپنے بزرگوں پر فخر کرنا اور خود کچھ نہ ہونا کے لئے اپنے واسطے ایک ڈائری بنا۔تو ہر وقت تھوکنے کی عادت نہ ڈال۔حمیت کے برخلاف ہے۔ی تو راستہ پوچھنے والے کو راستہ بتا۔تو جب کسی دعوت میں اکیلا بُلایا جائے تو مید اے خاتون! تو اپنی بچیوں کو محلہ کے اپنے بچوں کو ساتھ نہ لے جا۔لونڈوں کے ساتھ نہ کھیلنے دے۔ے نارکتخد الڑکی ! تیری ساری خط و کتابت م تو روزی کمانے کے لئے کوئی ناجائز اور تیرے والدین کی نظر سے گزرنی چاہئے تجھ میں اور تیرے خاندان میں جو کمزوریاں اور ذلیل پیشہ اختیار نہ کر۔حمد تو اپنے گھر کی خوبصورتی کو برباد نہ کر خواہ بیماریاں ہیں تو ویسی کمزور یوں والے خاندان میں شادی نہ کر۔وہ کرائے ہی کا ہو۔تو اپنے پاس ایک چاقو، ایک پنسل یا قلم اگر تیری ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اور ایک نوٹ بک ضرور رکھا کر۔اُن میں انصاف رکھ۔کے طالب علم ! تو اپنے ہاتھوں اور اپنی ہی جب تو کسی کو خط لکھے تو شروع میں بسم کتابوں اور کا پیوں کو سیاہی کے دھبوں اللہ ، اپنے شہر کا نام اور خط لکھنے کی تاریخ ضرور لکھ۔سے خراب نہ کر۔جب تو کسی خطبہ یا لیکچر میں حاضر ہو تو یا تو واضح سلیس اور آسان عبارت لکھا کر۔خاموشی اور توجہ سے اُسے سُن اور خطیب تو بدخط نہ لکھ بلکہ ایسا لکھ کہ صاف پڑھا کی طرف اپنا منہ رکھ۔جاسکے۔تو اپنی ابنیت کو اپنے باپ کے سوا کسی اور تو ضروری امور میں مشورہ کر لینے کی کی طرف منسوب نہ کر۔عادت ڈال۔