کر نہ کر — Page vi
تمہاری روحوں کو پیدا کیا، وہی تم سب کا خالق ہے۔اُس دن کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔(۲) آسمان اور زمین اور سورج اور چاند اور جتنی نعمتیں زمین آسمان میں نظر آتی ہیں، یہ کسی عمل کنندہ کے عمل کی پاداش نہیں ہیں۔محض خدا کی رحمت ہے، کسی کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ میری نیکیوں کے عوض میں خدا نے آسمان بنایا۔زمین بچھائی یا سورج پیدا کیا۔(۳) تو سورج کی پرستش نہ کر۔تو چاند کی پرستش نہ کر۔تو آگ کی پرستش نہ کر۔تو پتھر کی پرستش مت کر۔تو مشتری ستارے کو مت پوجا کر۔تو کسی آدم زاد یا کسی اور جسمانی چیز کو خُدا مت سمجھ۔کہ یہ سب چیزیں تیرے نفع کے لئے خدا نے پیدا کی ہیں۔(۴) بجز خدا تعالیٰ کے کسی چیز کی بطور حقیقی تعریف مت کر کہ سب تعریفیں اسی کی طرف راجع ہیں، بجز اس کے کسی کو اس کا وسیلہ مت سمجھ۔کہ وہ تجھ سے تیری رگِ جان سے بھی زیادہ نزدیک تر ہے۔(۵) تو اُس کو ایک سمجھ کہ جس کا کوئی ثانی نہیں۔تو اُس کو قا در سمجھ جو کسی فعل قابل تعریف سے عاجز نہیں۔تو اس کو رحیم اور فیاض سمجھ کہ جس کے رحم اور فیض پر کسی عامل کے عمل کو سبقت نہیں۔(1) تو سچ بول اور سچی گواہی دے۔اگر چہ اپنے حقیقی بھائی پر ہو یا باپ پر ہو یا ماں پر ہو یا کسی اور پیارے پر ہو۔اور حقانی طرف سے الگ مت ہو۔(۷) تو خون مت کر۔کیونکہ جس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا۔وہ ایسا ہے کہ جیسے اُس نے سارے جہان کو قتل کر دیا۔(۸) تو اولا دگشی اور دختر گشی مت کر۔تو اپنے نفس کو آپ قتل نہ کر۔توکسی قاتل یا ظالم کا مد گارمت ہو۔تو زنا مت کر۔(۹) تو کوئی ایسا فعل نہ کر جود وسرے کا ناحق باعث آزاد ہو۔(۱۰) تو قمار بازی نہ کر۔تو شراب مت پی۔تو سو د مت لے اور جو تو اپنے لئے اچھا سمجھتا ہے