کر نہ کر — Page v
بسم الله الرحمن الرحيم دیباچه کچھ عرصہ سے میرا خیال تھا کہ چھوٹے اور سادے فقروں میں اسلامی اوامر اور نواہی کو اس طرح بیان کیا جائے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی یا چوتھی پانچویں جماعت کا طلب علم بھی اسلامی زندگی کے احکام درباره حفظانِ صحت، تہذیب و تمدن ، معاملات ، اخلاق اور دینیات کو سمجھ سکے۔ساتھ ہی یہ اہتمام بھی کیا جائے کہ یہ رسالہ فقہ کی کتاب نہ بن جائے۔نہ اس میں حوالے ہوں جن کو عام لوگ سمجھ نہیں سکتے۔نہ احکام کا فلسفہ لکھا جائے تاکہ بچوں اور عورتوں کیلئے بھی آسانی رہے۔صرف سرسری بیان ہو جو اگرچہ بے حوالوں اور بغیر سند کے ہومگر ہومستند۔اس میں زیادہ تر نوجوانوں اور بچوں کا خیال رکھا گیا ہے۔مگر عورتیں اور بڑے آدمی بھی اگر چاہیں تو فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔طرزِ خطاب نئی قسم کا ہے مگر ہماری مذہبی روایات کے مطابق ہے۔اور تُو کا لفظ محض اظہار محبت اور خیر خواہی کی وجہ سے استعمال کیا گیا ہے۔جب اِس رسالہ کا مسودہ تکمیل کو پہنچ گیا تو ایک دن اتفاقاً جبکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے اشتہارات پڑھ رہا تھا تو معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام نے پنڈت کھڑک سنگھ آریہ کے مقابل پر ایک اشتہار میں اسی کتاب کے اُصول اور طرز پر مختصراً بعض احکام قرآن مجید کے لکھے تھے۔جنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ حضور بھی اس طریق تحریر کو تعلیم دین اور تبلیغ اسلام کیلئے مفید خیال فرماتے تھے۔میں تبر کا اور تمنا حضور کی اس ساری عبارت کو ذیل میں درج کر دیتا ہوں تا کہ اس کی وجہ سے ہماری جماعت کے نوجوان اس رسالہ کی طرف بشوق مائل ہوں۔اور اگر کسی دوست کو اس طریقہ تحریر پر اعتراض ہو تو وہ بھی دُور ہو جائے۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: (1) " تم خدا کو اپنے جسموں اور روحوں کا رب سمجھو، جس نے تمہارے جسموں کو بنایا اُسی نے