کر نہ کر

by Other Authors

Page 18 of 66

کر نہ کر — Page 18

18 مالی معاملات اور معاہدات (۳۵۹-۴۳۸) ا تو اپنا مال ہمیشہ جائز اور مفید کام میں خرچ اے حلوائی تو دودھ میں پانی نہ ملا۔اے تاجر تو کھوٹی چیز کو کھری کہہ کر نہ بیچے۔کر۔تولنے کے وقت پورا تول کر دے۔کے تاجر تُو مصنوعی گھی کو اصلی بتا کر نہ لد ماپنے کے وقت پورا اماپ کر دے۔فروخت کر۔حمد تو حتی الوسع کوئی پیشہ یا دستکاری ضرور محمد کے تاجر تو یہ نہ کر کہ نمونہ اور دکھائے اور سیکھ۔چیز اور دے۔تیرے کاموں میں بد انتظامی اور بے اے پیشہ ور! تو اپنے وعدہ کی پابندی کر ترتیبی نہ ہو۔اور جس دن کا وعدہ ہے اُس دن کام پورا لا تو لوگوں کے خطوط کے جواب جلد سے کر کے دے۔اے سُنا را! تو زیور میں کھوٹ نہ ملا۔جلد دیا کر۔تو حتی الوسع قرضہ لینے سے پر ہیز کر۔تو لوگوں کے جھگڑوں میں دخل نہ دے تو اپنی آمدنی کا ایک حصہ ضرور پس انداز سوائے اس کے کہ تیرے دخل سے صلح کا کر۔امکان ہو۔تو اپنی تجارت میں ایمانداری اور دیانت لا تو اپنے ترازو، یقوں ، گزوں اور پیمانوں کو سے کام لے۔ہمیشہ ٹھیک رکھ۔م کے تاجر ا تو اپنے اشتہار میں مبالغہ نہ کر۔تو جان بوجھ کر کھوٹے سکوں کو کھرا کر ا تو حریت اور مساوات انسانی کو نہ بھول کے نہ چلا۔کہ سب انسان آدم کی اولاد ہیں اور یا تو شرعی ورثہ میں گڑ بڑ نہ ڈال۔تیرے بھائی۔ا تو ماؤں بہنوں اور لڑکیوں کا حصہ شرعی