کر نہ کر

by Other Authors

Page 19 of 66

کر نہ کر — Page 19

19 اندازہ سے ادا کر۔اے خاتون! تو اپنے مرد کی فرمانبردار اور حمد تو اپنی بیوی کا مہر خوشی سے اور جلد سے اُس کے مال و عزت کی نگہبان ہے۔جلد ادا کر۔اے عورت! تو حتی الوسع خلع کی ذلت ہوا کر۔برداشت نہ کر۔تو خود اپنے گھر میں بھی آواز دے کر داخل تو مقدمہ بازی یا کسی ناجائز طریقہ سے تیری تحریری وصیت ہمیشہ تیرے پاس تو حتی الوسع اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔دوسرے کا مال نہ کھا۔تو حتی الوسع اپنی بیوی کو نہ مار۔ا تو اپنے رشتہ داروں کا لحاظ رکھ اور اُن کو موجود رہنی چاہئے۔تو کبھی مُردوں کو بُرا نہ کہ۔کیونکہ اس سے ایذاء نہ پہنچا۔تو ہمیشہ ضروری امور میں مشورہ کر لیا کر۔زندوں کو تکلیف ہوتی ہے اُن کا معاملہ ہو تو اپنے معاملات میں عقل کو بیکار نہ خدا کے ساتھ پڑچکا ہے۔چھوڑ۔بلکہ اُس سے پورا پورا کام لے۔اگر تو پوری تنخواہ لیتا ہے مگر آقا کے کام پر تو کبھی اچھی اور مفید سفارش سے انکار نہ کر۔پوراوقت خرچ نہیں کرتا تو تو مطفّف ہے۔کیا تو نہ ہمیشہ انتقام لے نہ ہمیشہ معاف کر لیا تو حرام چیزوں کی تجارت نہ کر۔- بلکہ اصلاح کا خیال رکھ۔تو بے ٹکٹ کے سفر نہ کر۔ہیں تو اپنا ووٹ کسی نا اہل کو نہ دے۔ہیں جس سٹیشن پر پلیٹ فارم ٹکٹ خریدنا و نکاح کے بعد اپنی بیوی کے نان نفقہ کا ضروری ہو وہاں تو پلیٹ فارم ٹکٹ خریدے یا سٹیشن ماسٹر سے پوچھے بغیر ذمہ دار ہے۔اے مرد! تو اپنی عورت کا نگران اور اندر داخل نہ ہو۔محافظ ہے پس اس پوزیشن سے اپنے تئیں تو سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے تمام کبھی نہ گرا۔اسباب پر اپنے نام اور مقام کی چٹیں لگا