کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 279

کرامات الصادقین — Page 95

كرامات الصادقين ۹۵ اُردو ترجمہ وَ قَدْ كَانَ وَجْهُ الْأَرْضِ وَجْهَا مُّسَوَّدًا فَصَارَ بِهِ نُورًا مُّبِيرًا وَّ اغْيَدَا اور روئے زمین تو ایک تاریک سطح تھی پس اس کے ذریعہ وہ سطح نور تاباں اور سرسبز ہوگئی۔وَ اَرْسَلَهُ الْبَارِى بِايَاتِ فَضْلِهِ إِلَى حِزْبِ قَوْمٍ كَانَ لُدًّا وَّمُفْسِدَا اور اسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے نشانوں کے ساتھ بھیجا ایسے لوگوں کے گروہ کی طرف جو سخت جھگڑالو اور مفسد تھا۔وَمُلْكِ تَأَبَّطَ كُلَّ شَرِقَوْمُهُ وَكُلٌّ تَلَا بَغْيًا إِذَا رَاحَ أَوْغَدَا اور ایسے ملک کی طرف بھیجا جس کے باشندوں نے ہر شر کو بغل میں لے رکھا تھا۔اور ان میں سے ہر ایک نے صبح و شام سرکشی کی پیروی کی تھی۔بِلُؤْبَةِ مَكَّةَ ذَاتِ حِقْفٍ عَقَنُقَلٍ بِلَادٌ تَرَى فِيْهَا صَفِيحًا مُّصَمَّدَا (اسے بھیجا ) مکہ کی سنگلاخ زمین میں جو پتھر یلے ٹیلوں والی تھی اور وہ ایسا علاقہ تھا کہ تو اس میں ٹھوس چٹانیں دیکھتا ہے۔وَمَا كَانَ فِيْهَا مِنْ زُرُوعٍ وَّدَوْحَةٍ تُرَى كَالظَّلِيمِ قَرَاهُ أَزْعَرَ أَرْبَدَا اور اس میں کوئی کھیتی اور درخت نہ تھے۔اور اس کی مٹی شتر مرغ کی طرح خاکستری اور سیاہی کی مائل اور بے آب و گیاہ نظر آتی ہے۔تَكَنَّفَ عَقْوَةَ دَارِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَمَاعَةُ قَوْمٍ كَانَ لُدًّا وَّ مُفْسِدَا ایک رات اس کے گھر کے قرب وجوار کا احاطہ کر لیا ایسے لوگوں کے گروہ نے جو جھگڑالو اور مفسد تھا۔۱۸۷