کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 279

کرامات الصادقین — Page 78

كرامات الصادقين ZA اُردو ترجمہ يَقُولُونَ إِنَّا قَادِرُونَ عَلَى الْا ذِى فَقُلْنَا احْسَبُّوا إِنَّ الْمُهَيْمِنَ أَقْدَرُ وہ کہتے ہیں کہ ہم دکھ دینے پر قادر ہیں پس ہم نے کہا دور ہو جاؤ! یقیناً خدائے مھیمن سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا ہے۔فَيَا عُلَمَاءَ السُّوْءِ مَا الْعُذْرُ فِي غَدٍ ايُلْعَنُ مِثْلِى مُسْلِمٌ وَيُكَفَّرُ اے علماء سوء ! کل ( روز قیامت) تمہارا کیا عذر ہوگا۔کیا میرے جیسے مسلمان پر لعنت ڈالی جاسکتی ہے اور اس کی تکفیر کی جاسکتی ہے؟ وَمَا غَيْظُكُمْ إِلَّا لِعِيْسَى وَاسْمِهِ أَيُدُعَى بِهَذَا الْإِسْمِ شَخْصٌ مُّحَقَّرُ تمہارا غصہ تو صرف عیسی کے دعوئی اور اس کا نام اختیار کرنے پر ہے۔کیا کوئی حقیر آدمی بھی ایسے نام سے پکارا جا سکتا ہے۔وَمَا تَعْلَمُونَ شُئُونَ رَبِّي وَفَضْلَهُ وَيَعْلَمُ رَبِّي كُلَّ نَفْسٍ وَّ يَنْظُرُ اور تم خدا کے کاموں اور اس کے فضل کو نہیں جانتے اور میرا رب ہر آدمی کو جانتا ہے اور دیکھ رہا ہے۔اَنِعْمَةُ رَبِّي فِي يَدَيْكُمْ مُحَاطَةٌ وَيَفْعَلُ رَبِّي مَايَشَاءُ وَيُظْهِرُ کیا میرے رب کی نعمت تمہارے ہاتھوں میں محصور ہے حالانکہ میرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس کو ظاہر کر دیتا ہے۔انَحْنُ نَفِرُّ مِنَ النَّبِيِّ وَبَابِهِ خَفِ اللَّهَ يَاصَيْدَ الرَّدَا كَيْفَ تَجُسُرُ کیا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دروازے سے بھاگ سکتے ہیں؟ اے ہلاکت کے شکار! اللہ سے ڈر۔تو کیسی جرات کر رہا ہے۔أَ نَتْرُكُ قُرْآنًا كَرِيمًا وَ دُرَرَهُ فَمَالَكَ لَا تَدْرِى صَلَاحًا وَّ تَفْجُرُ کیا ہم قرآن کریم اور اس کے موتیوں کو چھوڑ دیں۔تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو بھلائی کو جانتا ہی نہیں اور گنہگار بن رہا ہے۔۱۷۰