کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 279

کرامات الصادقین — Page 67

كرامات الصادقين ۶۷ اُردو ترجمہ ذَبَبْتُ عَنِ الدِّينِ الْحَنِيْفِي شُكُوكَكُمْ وَاَزْعَجْتُ أَصْلَ أُصُولِكُمْ ثُمَّ تُنْكِرُ میں نے دین حنیفی کے متعلق تمہارے شکوک دُور کر دیے ہیں اور تمہارے اُصول کی جڑ کو اُکھاڑ دیا ہے۔پھر بھی تو انکار کر رہا ہے۔وَقُلْتُمْ لَنَا دِينٌ بَعِيدٌ مِنَ النُّهى“ وَهذَا فَسَادٌ ظَاهِرٌ لَيْسَ يُسْتَرُ اور تم نے کہہ دیا ہمارا دین تو عقل میں نہیں آ سکتا اور یہ تو ایک واضح خلل ہے جو چھپ نہیں سکتا۔وَكُلُّ امْرِءٍ بِالْعَقْلِ يَفْهَمُ أَمْرَهُ كَمَا بِالْعُيُونِ يُشَاهِدَنَّ وَيُبْصِرُ اور ہر آدمی تو عقل سے ہی اپنا معاملہ سمجھا کرتا ہے جیسا کہ وہ آنکھوں سے مشاہدہ کرتا ہے اور دیکھتا ہے۔وَعَقْلُ الْفَتَى نِصْفٌ وَّ نِصْفٌ حَوَاسُهُ وَ كَصَفْقِ أَيْدٍ مِّنْهُمَا الْعِلْمُ يَظْهَرُ اور آدھی تو انسان کی عقل ہے اور آدھے اسکے حواس ہیں اور ( بیع کے وجوب کیلئے ) ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی طرح ان دونوں سے علم الیقین صادر ہوتا ہے۔تَصَدَّيْتَ فِي نَصْرِ الضَّلَالِ تَعَمُّدًا فَبَارِزُ لِحَرُبِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ تو عمد ا گمراہی کی مدد کے درپے ہوا۔سو اللہ سے جنگ کے لئے میدان میں آ جا اگر تجھے قدرت ہے۔وَمَا أَنْتَ إِلَّا عَابِدَ الْحِرْصِ وَ الْهَوَى تُشَمِّرُ ذَيْلَكَ لِلْحُطَامِ وَ تَهْجُرُ اور تو تو صرف حرص و ہوا کا پجاری ہے تو سامان دنیا کے لئے کمر بستہ ہے اور بکواس کر رہا ہے۔رَأَيْتُ لَكَ الرُّؤْيَا وَ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّ كَلَامَ اللَّهِ لَا تَتَغَيَّرُ میں نے تیرے متعلق ایک خواب دیکھی ہے اور یقیناً تو مرنے والا ہے اور بے شک خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔۱۵۹