کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 279

کرامات الصادقین — Page 55

كرامات الصادقين ۵۵ اُردو ترجمہ تَرَكْتُمُ طَرِيقَ الْحَقِّ شُحًا وَّ خِسَّةَ وَسَيَعْلَمَنْ كُلِّ إِذَا مَا يُعْثِرُوا تم نے بخل اور کمینگی سے حق کا راستہ چھوڑ دیا ہے اور ہر شخص جان لے گا جب لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔عَسَى أَنْ يُزِيْلَ اللَّهُ شُدَّ نُفُوسِكُمْ وَلَكِنَّهُ بَغُرٌ شَدِيدٌ مُدَمَّرُ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے نفسوں کا بخل دور کر دے لیکن وہ بخل تو ایک شدید مہلک پیاس ہے۔وَ مَنْ كَانَ ذَاحِجُرٍ فَيَدْرِى حَقِيْقَةً وَمَنْ كَانَ مَحْجُوبًا فَيَهْذِى وَيَهْجُرُ اور جو شخص عقل مند ہو وہ تو حقیقت کو پالیتا ہے اور جو محجوب العقل ہو وہ بیہودہ بولتا اور بکواس کرتا ہے۔سَتَلْغَبُ يَا يَحْمُوْرَ قَوْمٍ مُّحَقَّرٍ وَ مِحْضِيْرُنَا يَعْدُو وَلَا يَتَحَسَّرُ اے حقیر قوم کے گورخر ! تو ضرور تھک جائے گا اور ہمارا گھوڑا دوڑ تا رہے گا اور نہیں تھکے گا۔قَدِ اسْتَخْمَرَ الشَّيْطَانُ نَفْسَكَ كُلَّهَا فَانْتَ لِغُوُلِ النَّفْسِ عَبْدٌ مُسَخَّرُ شیطان نے تیرے سارے نفس کو مد ہوش کر دیا ہے سو تو نفس کے چھلاوے کا مسخر غلام بن گیا ہے۔أَلَا إِنَّ رَبِّي قَدْ رَأَى مَا صَنَعْتَهُ فَنَفْسُكَ سَوْفَ تُحَجَّرَهُ وَ تُحَوَّرُ آگاہ رہ کہ بے شک میرے رب نے جو کر توت تو نے کی ہے اسے دیکھ لیا ہے۔پس تیرا نفس جلد ہی (اس سے) روکا جائیگا اور تو نا مرا در ہے گا۔ا تُطْفِئُ نُورًا قَدْ أُرِيدَ ظُهُورُهَا لَكَ الْبُهْرُ فِي الدَّارَيْنِ وَ النُّورُ يَبْهَرُ کیا تو اس نور کو بجھاتا ہے جس کے ظہور کا ارادہ ہو چکا ہے۔تیرا دونوں جہانوں میں ستیا ناس ہو۔اور نور تو روشن ہی رہے گا۔وَإِنِّي أَرَى قَدْ بَارَ كَيْدُكَ كُلُّهُ وَيَهْتِكُ رَبِّي كُلَّمَا هُوَ تَسْتُرُ اور میں دیکھتا ہوں کہ تیرا سارے کا سارا منصو بہ برباد ہو گیا ہے۔اور میرا رب ہر اس امر کی پردہ دری کر دیتا ہے جسے تو چھپاتا ہے۔۱۴۷