کرامات الصادقین — Page 44
كرامات الصادقين ۴۴ اُردو ترجمه وَقَالَ بِاَنَّ اللَّهَ اسْمُ ثَلَثَةِ اَبٌ وَّابْنُهُ حَقًّا وَّ رُوْحٌ مُطَهَّرُ اور اس نے کہا کہ اللہ تین شخصیتوں کا نام ہے۔باپ۔اس کے حقیقی بیٹے اور روح القدس کا۔فَقُلْتُ لَهُ اخْسَأْ لَيْسَ عِيسَى بِخَالِقِ وَخَالِقُنَا الرَّبُّ الْوَحِيدُ الْأَكْبَرُ میں نے اس سے کہا: تجھے پھٹکار۔عیسی ہرگز خالق نہیں ہے۔ہمارا خالق تو رب یگانہ ہے جو سب سے بڑا ہے۔أَتُثْبِتُ فِى مُلْكِ لَّهُ مِنْ بَرِيَّةٍ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ هُوَ فِي السَّمَاءِ مُدَبِّرُ کیا تو ثابت کر سکتا ہے کہ اس (عیسی) کے اقتدار میں زمین کی کوئی مخلوق ہے؟ یا ( کیا تو ثابت کر سکتا ہے ) کہ وہ آسمان میں مدتبر ہے۔وَ إِنَّ عَلَى مَعْبُودِكَ الْمَوْتَ قَدْ آتَى وَالهُنَا حَيٌّ وَيَبْقَى وَيَعْمَرُ اور یقیناً تیرے معبود پر تو موت آچکی ہے اور ہمارا معبود زندہ ہے باقی رہے گا اور دائم ہے۔وَلَيْسَ لِمُسْتَغْنِ إِلَى الْإِبْنِ حَاجَةٌ وَحَاشَاهُ مَا الْأَوْلَادُ شَيْئًا يُوَفَّرُ اور مستغنی ذات کو بیٹے کی کوئی حاجت نہیں ہے وہ اس سے منزہ ہے۔اولا دکوئی ایسی شے نہیں جسے عظمت دی جائے۔أَعِيسَى الَّذِي لَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ ذَرَّةٌ الة وتَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ کیا عیسی جو ذرہ بھر ( بھی ) علم غیب نہیں رکھتا ، معبود ہوسکتا ہے؟ اور تو جانتا ہے کہ اسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔فَاثْنَى عَلَى إِبْلِيسَ بِالْعِلْمِ وَالْهُدَى وَ قَالَ هُوَ الشَّيْخُ الَّذِي لَا يُنْكَرُ پھر مخاصم نے علم و ہدایت میں ابلیس کی تعریف کی اور اس نے کہا کہ وہ ایسا بزرگ ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔۱۳۶