کرامات الصادقین — Page 43
كرامات الصادقين ۴۳ اُردو ترجمہ وَبَشَّرَنِي قَبْلَ الْجِدَالِ بِلُطْفِهِ فَقَالَ لَكَ الْبُشْرَى وَ اَنْتَ الْمُظَفَّرُ اور مقابلہ سے پہلے ہی اس نے اپنی مہربانی سے مجھے بشارت دے دی۔سو کہا : تجھے بشارت ہو تو ہی کامیاب ہو نیوالا ہے۔فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِى تَذَلُّلًا وَقَصَدْتُ عَنْبَرُ سَرَ وَ قَطْرِيَ يَمْطُرُ تب میری آنکھوں سے عاجزی سے آنسو جاری ہو گئے اور میں نے اس حال میں امرتسر کا ارادہ کیا کہ میرے آنسوؤں کی جھڑی لگ رہی تھی۔فَجِئْتُ النَّصَارَى فِى مَقَامِ جُلُوسِهِم فَتَخَيَّرُوا مِنْهُمْ خَصِيمًا وَّ انْظُرُ پس میں نصاری کے پاس انکی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا اور میں دیکھ رہا تھا کہ انہوں نے اپنے میں سے ایک بحث کر نیوالے کا انتخاب کیا ہے۔وَظَلَّ النَّصَارَى يَنْصُرُونَ وَكِيْلَهُمْ وَكُلِّ تَسَلَّحَ صَائِلًا لَّوْ يَقْدِرُ اور تصاری اپنے وکیل کو دور بیٹے لگ گئے اور اگر ہیں چنا تو ہر شخص حملہ آور ہونے کے لئے مسلح ہو جاتا۔مددد رَتَيْتُ مُبَارِزَهُمْ كَذِتُبِ بِظُلْمِهِ يَصُولُ عَلَى سُبُلِ الْهُدَى وَيُزَوِّرُ میں نے انکی طرف سے مقابلہ کر نیوالے کو اسکے ظلم کی وجہ سے بھیڑیے کی طرح پایا جو ہدایت کی راہوں پر حملہ کرتا تھا اور مکر سے کام لے رہا تھا۔فَخَاصَمَ ظُلْمًا فِي ابْنِ مَرْيَمَ وَاجْتَرَى عَلَى اللَّهِ فِيمَا كَانَ يَهْذِى وَيَهْجُرُ اس نے ابن مریم کے بارے میں ظلم سے جھگڑا کیا اور جرات کی اللہ پر اسی بات میں جو وہ بک رہا تھا اور جس میں بے ہودگی دکھا رہا تھا۔وَقَالَ لَهُ وَلَدٌ مَسِيحَ ابْنُ مَرْيَمَ فَسُبْحَانَ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا تَصَوَّرُوا اس نے کہا کہ مسیح ابن مریم خدا کا بیٹا ہے اور عرش کا مالک ( تو ) اس عیب سے پاک ہے جس کا انہوں نے تصور کیا۔۱۳۵