کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 279

کرامات الصادقین — Page 34

كرامات الصادقين له له اردو ترجمہ وجب على الشيخ المذكور المهذبة والاستعارات میں نے ان قصائد ) کو بڑے شائستہ نکات المستعذبة ملتز ماجد اور شیریں استعارات سے مزین کیا ہے جس القول وجزله وأيدني میں سنجیدہ بیانی اور شگفتگی کا پورا التزام کیا گیا رَبِّي وعلمنى سبلها وإن ہے ۔ اور میرے رب نے میری تائید فرمائی كنت من الأميين۔ فالآن اور اگر چہ میں امی تھا لیکن پھر بھی اس نے مجھے ان راہوں کا علم دیا ۔ پس اب شیخ مذکور پر أن يناضلني فی ذلک واجب ہے کہ وہ اس میں میرا مقابلہ کرے اور وينظم قصيدة في تلك ان امور کی نسبت ایسا قصیدہ نظم کرے جس میں الأمور بعدة أبيات هذه ان قصائد کے اشعار جتنی تعداد ہو اور ان القصائد وأساليب بلاغتها ( قصائد ) جبيبها اسلوب بلاغت ہو۔ اگر اس فإن أتم شرطي فله ألف نے میری یہ شرط پوری کر دی تو اس شرط کے من الدراهم المروجة إنعاما پورا کرنے پر رائج الوقت ہزار روپے میری منى عليه ولكل من ناضلنی طرف سے بطور انعام ہو گا اور اسی طرح علماء من العلماء المكفّرين۔ مکفرین میں سے ہر ایک کو یہ (انعام ملے گا ) جو ومع ذلك أوتيهم موثقا میرا مقابلہ کرے ۔ مزید براں میں اللہ کی موکد من الله لأكتب لهم بعد قسم کے ساتھ ان کے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں کہ ان غلبهم كتابا فيه أُقرّ بأنهم كے غالب آنے کی صورت میں میں ایک کتاب العالمون الأدباء وإني من لکھوں گا جس میں میں اس امر کا اقرار کروں گا الجاهلين الكاذبين المفترين کہ وہ (واقعی) ادیب عالم ہیں اور میں جاہل ولكن لا يجب على إيفاء كاذب اور مفتری ہوں لیکن اس شرط کا پورا ۱۲۶