کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 279

کرامات الصادقین — Page 33

كرامات الصادقين ۳۳ اردو تر جمه فدعوته للنضال في كلام | ہوں۔تب میں نے اسے فصیح عربی کلام میں عربی مبین وقلت تعال مقابلہ کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ آؤ، أناضلك فى النظم العربی میں تمہارا عربی نظم اور نثر میں مقابلہ کرتا ہوں ونشره و أقول ما تقول وفی اور تمہارے ہر کلام کا جواب دوں گا اور ۲۷ کل وادٍ معك أجول وإنی تمہارے ساتھ ہر وادی میں گھوموں گا اور میں إن شاء الله من الغالبين ہی انشاء اللہ غالب آؤں گا۔پھر اُس نے فأشاع في شياطينه أنه قَرُنُ اپنے چیلے چانٹوں میں یہ بات پھیلائی کہ وہ مجالي وقرين جدالی فلزقتُ میدان میں میرا مد مقابل اور بحث میں میرا به كالداء العُضال لیبارزنی ہم پلہ ہے۔پھر میں لاعلاج بیماری کی طرح اس للنضال إن كان من الصادقین سے چمٹ گیا تا کہ وہ میرے مقابلے کے لئے فخاف وأبى ونحت الحِيَلَ میدان میں نکلے اگر وہ سچا ہے۔لیکن وہ ڈر گیا وتولى ولا يُفلح الكاذب اور اس نے انکار کر دیا ، حیلے بہانے تراشنے لگا حيث أتى ـ فألهمنی ربی اور پیٹھ پھیر گیا اور جھوٹا جہاں سے بھی آئے گا طریقا آخر لیهلک من کامیاب نہ ہو گا۔میرے رب نے بذریعہ كان من الهالكين وهو الهام مجھے ایک اور طریق بتایا تاکہ ہلاک ننی نظمت في هذه الأيام ہونے والا ہلاک ہو اور وہ ( طریق یہ تھا کہ ) وثقفتها في ثلاثة میں نے انہی ایام میں چند قصائد نظم کئے اور أيام أو أقل منها والله انہیں تین دنوں بلکہ اس سے بھی کم وقت میں علیه شاهد وهو خیر مہارت کے ساتھ تحریر کیا اور اللہ اس کا گواہ الشاهدين۔وزينتها بالنكات ہے اور وہ گواہوں میں سے بہترین ہے اور قصائد ۱۲۵