کرامات الصادقین — Page 29
كرامات الصادقين ۲۹ 1۔۲۰۰ شخص اہل علم اور اہل ادب میں سے ہوتا تو ان سو دو ستو شرائط اور حیلوں کی اس جگہ ضرورت ہی کیا تھی۔تنقیح طلب تو صرف اس قدرا مر تھا کہ شیخ مذکور اپنے ان بیانات میں جو جابجا شائع کر چکا ہے صادق ہے یا کاذب اور یہ عاجز بالمقابل عربی بلیغ اور تفسیر لکھنے میں شیخ سے کم رہتا ہے یا زیادہ، کم رہنے کی حالت میں میں نے اقرار کر دیا تھا کہ میں اپنی کتا بیں جلا دوں گا اور تو بہ کروں گا اور شیخ مذکور کی رعایت کے لئے اس مقابلہ کے بارے میں دن بھی چالیس مقرر کر دیے تھے جن کے معنی شیخ نے خباثت کی راہ سے یہ کئے کہ گویا میرا چالیس دن کے مقرر کرنے سے یہ منشاء ہے کہ شیخ مذکور چالیس دن تک مرجائے گا۔حالانکہ صاف لکھا تھا کہ چالیس دن تک یہ مقابلہ ہو نہ کہ یہ کہ چالیس دن کے بعد شیخ اس جہان سے انتقال کر جائے گا۔اب چونکہ شیخ جی نے اس طور پر مقابلہ کرنا نہ چاہا اور بیہودہ طور پر بات کو ٹال دیا اس لئے ہمیں اب اس مقابلہ کیلئے دوسرا پہلو بدلنا پڑا۔اور ہم فراست ایمانیہ کے طور پر یہ پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ شیخ صاحب اس طریق مقابلہ کو بھی ہرگز قبول نہیں کرینگے اور اپنی پرانی عادت کے موافق ٹالنے کیلئے کوشش کرینگے۔بات یہ ہے کہ شیخ صاحب علم ادب اور تفسیر سے سراسر عاری اور کسی نامعلوم وجہ سے مولوی کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں مگر اب شیخ صاحب کے لئے طریق آسان نکل آیا ہے کیونکہ اس رسالہ میں صرف شیخ صاحب ہی مخاطب نہیں بلکہ وہ تمام ملکفر مولوی بھی مخاطب ہیں جو اس عاجز متبع اللہ اور رسول کو دائرہ اسلام سے خارج خیال کرتے ہیں۔سولا زم ہے کہ شیخ صاحب نیاز مندی کے ساتھ اُن کی خدمت میں جائیں اور اُن کے آگے ہاتھ جوڑیں اور روویں اور اُن کے قدموں پر گریں تا یہ لوگ اس نازک وقت میں اُن کی عربی دانی کی پردہ دری سے ان کو بچالیں کچھ تعجب نہیں کہ کسی کو اُن پر رحم آجاوے۔ہاں اس قدر ضرور ہے کہ اگر حنفی مولوی کے پاس جائیں تو اسکو کہہ دیں کہ اب میں حنفی ہوں اور اگر شیعہ کی خدمت میں جائیں تو کہہ دیں کہ اب میں شیعیان اہلبیت میں سے ہوں چنانچہ یہی وتیرہ آجکل شیخ جی کا ئنا بھی جاتا ہے لیکن مشکل یہ کہ اس عاجز کو شیخ جی اور ہر یک مکفر ۱۲۱