کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 279

کرامات الصادقین — Page 28

۲۸ كرامات الصادقين کیونکر اس نے رکیک شرطوں سے اپنا پیچھا چھوڑایا ہے۔چنانچہ ان صفحات میں لکھا ہے کہ اس ۲۳ مقابلہ سے پہلے کتاب دافع الوساوس کی عربی عبارت کی غلطیاں ثابت کریں گے اور نیز کتاب فتح ۸۵ اسلام اور توضیح مرام کے کلمات کفر والحاد پیش کریں گے اور نیز ان پچاسی سوالات کا جواب طلب کریں گے جو مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی موت کی نسبت مراسلت نمبر ۲۰ مورخہ 9 جنوری ۱۸۹۳ء میں ہم لکھ چکے ہیں اور یہ بھی سوال کرینگے کہ کیا تم نجوم نہیں جانتے اور کیا تم رمل اور جفر اور مسمریزم سے واقف نہیں ہو۔اور پھر جوابات کے جواب الجوابات کا جواب پوچھا جائیگا اور اسی طرح سلسلہ وار جواب الجواب ہوتے جائیں گے اور پھر یہ پوچھا جائیگا کہ بالمقابل عربی میں تفسیر لکھنے کو اپنے ملہم اور مؤید ہونے پر دلیل بتلاویں یعنی عربی دانی سے ملہم ہونا کیونکر ثابت ہوگا اور پھر کوئی دلیل اپنے الہامی اور مؤید من اللہ ہونے کی پیش کریں۔پھر جب ان سوالات سے عہدہ برا ہو گئے تو پھر تفسیر عربی اور نیز قصیدہ نعتیہ میں مقابلہ کیا جائیگا ورنہ نہیں۔اب اسے ناظرین اللہ خود ان تینوں صفحوں ۱۹۰۔اور ۱۹۱۔اور۱۹۲‘ اشاعۃ السنتہ مذکور کوغور سے پڑھو اور دیکھو کہ کیا یہ جواب اور ایسے طرز کی حیلہ سازیاں ایسے شخص کی طرف سے ہو سکتی ہیں جو حقیقت میں اپنے تئیں عربی دان اور ایک فاضل آدمی خیال کرتا ہو اور اپنے فریق مقابل کو ایسا جاہل یقین رکھتا ہو کہ بقول اس کے ایک صیغہ عربی کا بھی اُس کو نہیں آتا۔اور پھر خدا تعالیٰ سے بھی مدد نہیں پاسکتا۔ہماری اس درخواست کی بنا تو صرف یہ بات تھی کہ اس شیخ چالباز نے جابجا جلسوں اور وعظوں اور تحریروں اور تقریروں میں یہ کہنا شروع کیا تھا کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز ایک طرف تو اپنے دعویٰ الہام میں مفتری اور دجال اور کا ذب ہے اور دوسری طرف اس قدر علوم عربیت اور علم ادب اور علم تفسیر سے جاہل اور بے خبر ہے کہ ایک صیغہ بھی صحیح طور سے اس کے منہ سے نکل نہیں سکتا اور جن آسمانی نشانوں کو دیکھا تھا ان کا تو پہلے انکار کر چکا تھا اور ان کو رمل اور جفر قرار دے چکا تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس طور سے بھی اس شخص کو ذلیل اور رسوا کرنا چاہا۔صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ ۱۲۰