کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 279

کرامات الصادقین — Page 27

كرامات الصادقين ۲۷ پہنچ گئی ہے کہ صحیح اس کی نظر میں غلط اور فصیح اس کی نظر میں غیر فصیح دکھائی دیتا ہے۔اور معلوم نہیں کہ یہ نادان شیخ کہاں تک اپنی پردہ دری کرانا چاہتا ہے اور کیا کیا ذِلّتیں اسکے نصیب ہیں بعض اہلِ علم ادیب اس کی یہ باتیں سن کر اور اس کی اس قسم کی نکتہ چینیوں پر اطلاع پا کر اس پر روتے ہیں کہ یہ شخص کیوں اس قدر جہل مرکب کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔میں نے پہلے بھی لکھ دیا ہے اور اب پھر ناظرین کی اطلاع کے لئے لکھتا ہوں کہ اگر میاں بطالوی نے میرے ان قصائدار بعد اور تفسیر (۲۲) سورہ فاتحہ کا مقابلہ کر دکھلایا اور منصفوں کی رائے میں وہ قصائد اور وہ تفسیر اُن کی صرفی نحوی اور بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلی تو میں ہر یک غلطی کی نسبت جوان قصائد اور تفسیر میں پائی جائے یا میری کسی پہلی عربی تالیف میں پائی گئی ہو پانچ روپیہ فی غلطی شیخ بطالوی کی نذر کرونگا اور میں ناظرین کو یقین دلاتا ہوں کہ شیخ بطالوی علم عربیت سے بکلی بے نصیب ہے غلطیوں کا نکالنا ان لوگوں کا کام ہوتا ہے جو کلام جدید اور قدیم عرب پر نظر محیط رکھتے ہوں اور محاورہ اور عدم محاورہ پر انکو اطلاع ہو۔اور ہزار ہا اشعار عرب کے ان کی نگاہ کے سامنے ہوں اور تتبع اور استنقراء کا ملکہ ان کو حاصل ہو مگر یہ بیچارہ شیخ جس نے اُردو نویسی میں ریش سفید کی ہے علم ادب اور بلاغت فصاحت کو کیا جانے۔کبھی کسی نے دیکھا یا سنا کہ کوئی دو چار سو شعر عربی میں اس بزرگ نے نظم کر کے شائع کئے ہوں اور مجھے تو ہر گز ہرگز اس قدر بھی امید نہیں کہ ایک شعر بلیغ وفصیح بھی بنا سکتا ہو یا ایک سطر لوازم بلاغت و فصاحت کے ساتھ عربی میں لکھ سکتا ہو ہاں اُردو خوان ضرور ہے۔ناظرین غور سے دیکھیں کہ اس بزرگ کی عربیت کی حقیقت کھولنے کیلئے اس عاجز نے پہلے اس سے اپنے اشتہار میں لکھا تھا کہ شیخ مذکور میرے مقابل پر ایک تفسیر کسی سورۃ قرآن کریم کی بلیغ و فصیح عبارت میں لکھے اور نیز سنو شعر کا ایک قصیدہ بھی میرے مقابل پر بیٹھ کر تحریر کرے۔اگر شیخ مذکور کو عربیت میں کچھ بھی دخل ہوتا تو وہ بڑی خوشی سے میرے مقابلہ میں آتا اور پہلو بہ پہلو بیٹھ کر اپنی عربی دانی کی لیاقت دکھلاتا۔لیکن اسکے اشاعۃ السنہ نمبر ۸ جلد ۱۵ کو صفحہ ۱۹۰ سے ۱۹۲ تک بغور پڑھنا چاہئے کہ 119