کرامات الصادقین — Page 26
كرامات الصادقين ضرورتوں کے موافق ہیں۔ ۲۶ بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قصائد اور یہ تفسیر کسی غرض خود نمائی اور خودستائی سے نہیں لکھی گئی بلکہ محض اس غرض سے کہ تا میاں بطالوی اور ان کے ہم خیال لوگوں کی نسبت منصف لوگوں پر یہ ظاہر ہو کہ وہ اپنے اس اصرار میں کہ یہ عاجز مُفتری اور دجال اور ساتھ اس کے بالکل علم ادب سے بے بہرہ اور قرآن کریم کے حقائق و معارف سے بے نصیب ہے اور وہ لوگ بڑے اعلیٰ درجے کے عالم فاضل ہیں کس قدر کا ذب اور دروغگو اور دین اور دیانت سے دور ہیں اگر میاں بطالوی اپنے ان بیانات اور ہذیانات میں جو اُس نے اِس عاجز کے نادان اور جاہل اور مفتری ہونے کے بارہ میں اپنے اشاعة السنة میں شائع کئے ہیں دیانتدار اور راست گو ہے تو کچھ شک نہیں کہ اب بلا حجت و حیلہ ان قصائد اور تفسیر کے مقابلہ پر اپنی طرف سے اسی قدر اور تعدا د اشعار کے لحاظ سے چار قصیدے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اور نیز سورۃ فاتحہ کی تفسیر بھی شائع کرے گا۔ تا سید روئے شود ہر کہ دروغش باشد ۔ اور ایسا ہی وہ تمام مولوی جن کے سر میں تکبر کا کیڑا ہے اور جو اس عاجز کو با وجود بار بار اظہار ایمان کے کافر اور مرتد خیال کرتے ہیں اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتے ہیں اس مقابلہ کیلئے مدعو ہیں چاہے وہ دہلی میں رہتے ہوں جیسا کہ میاں شیخ الکل اور یا لکھو کے میں جیسا کہ میاں محی الدین بن مولوی محمد صاحب اور یالا ہور میں یا کسی اور شہر میں رہتے ہوں اور اب ان کی شرم اور حیا کا تقاضا یہی ہے کہ مقابلہ کریں اور ہزار روپیہ لیویں ان کو اختیار ہے کہ بالمقابل جو ہر علمی دکھلانے کے وقت ہماری غلطیاں نکالیں ہماری صرف ونحو کی آزمائش کریں اور ایسا ہی اپنی بھی آزمائش کرادیں لیکن یہ بات بے حیائی میں داخل ہے کہ بغیر اسکے جو ہمارے مقابل پر اپنا بھی جو ہر دکھلا ویں یکطرفہ طور پر استاد بن بیٹھیں ۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ شیخ بطالوی نے جس قدر اس عاجز کی بعض عربی عبارات سے غلطیاں نکالی ہیں اگر ان سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ اب اس شیخ کی خیرگی اور بے حیائی اس درجہ تک ۱۱۸