کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 279

کرامات الصادقین — Page 276

كرامات الصادقين اُردو ترجمه بموته إلى خمسة عشر أشهر من بحث کے خاتمہ سے لیکر پندرہ ماہ تک اس کی يوم خاتمة البحث فاستيقظت موت کی بشارت دی۔پس میں بیدار ہوا اور میں وكنت من المطمئنين۔ثم مطمئن تھا۔پھر ہم اس کے پاس آئے اور | جئناه واجتمعت الحلقة و مجلس لگ گئی اور خاص و عام حاضر ہو گئے اور حضر الخاص والعام وأحضرت دوات اور قلمیں لائی گئیں۔پس بیٹھتے ہی میں الدواة والأقلام فما لبثت نے وہ تمام خبر جو مجھے رب الأرباب کی طرف أن قعدت وأنباتُ مِن كل سے دی گئی تھی بتا دی۔اور اسے کتاب میں لکھوا ما أُخبرتُ من رب الأرباب دیا پھر میں اپنے مسافر خانہ سے روانہ ہوا۔اور وأمليته في الكتاب ثم ارتحلت میں اس بحث کو اپنے افضل ترین تقرب الی اللہ من دار غربتى وحسبت ذلک کے کاموں سے سمجھتا ہوں اور میں اس خبر کو البحث أفضل قُربتى وحسبت ربّ العالمین کی نعمتوں میں سے عظیم نعمت پاتا ذلك النبأ نعمة من نعماء رب ہوں۔پس تم غور وفکر کر واللہ تمہیں عافیت سے العالمين۔فتفكروا عافاكم الله رکھے۔میری تکفیر کرنے میں جلدی نہ کرو اور نہ ولا تعجلوا فی تکفیری و لا گالیاں دو اور نہ ہی بہتان تراشی کرو۔اور اگر تم تسبوا ولا تقذفوا و إن كنتم فى شک میں ہو تو ان مذکورہ بالا خبروں (کے پورا شک فانتظروا هذه الأنباء ہونے کا انتظار کرو کیونکہ یہ میری سچائی اور ) المذكورة فإنها معيار لصدقى جھوٹ کے لئے ایک معیار ہے۔اور اگر تم باز و كذبي۔وإن لم تنتهوا فقد تمّت نہ آئے تو اللہ کی اور میری مجبت تو تم پر تمام ہو علیکم حجة الله و حجتی چکی ہے اور تم مجھے ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکو ولن تضرونی شیئًا وستسألون گے اور مالک یوم الدین کے ہاں تم ضرور ۳۶۸