کرامات الصادقین — Page 22
كرامات الصادقين ۲۲ جائے اور کسی ملک کا انتظام بجز قوانین سزا کے مجر درحم سے چل نہ سکا۔آخر عیسائی مذہب نے بھی اس رحم اور در گذر کی تعلیم سے بیزار ہو کر وہ خونریزیاں دکھلائیں کہ شاید اُن کی دنیا میں نظیر نہیں ہوگی اور جیسے ایک پل ٹوٹ کر ارد گرد کو تہ آب کر دیتا ہے ایسا ہی عیسائی قوم نے در گزر کی تعلیم کو چھوڑ کر کام دکھلائے۔سو ان دونوں کتابوں کا نا تمام اور ناقص ہونا ظاہر ہے لیکن قرآن کریم اخلاقی تعلیم میں قانون قدرت کے قدم بہ قدم چلا ہے۔رحم کی جگہ جہاں تک قانون قدرت اجازت دیتا ہے رحم ہے اور قہر اور سزا کی جگہ اسی اصول کے لحاظ سے قہر اور سزا اور اپنی اندرونی اور بیرونی تعلیم میں ہریک پہلو سے کامل ہے اور اس کی تعلیمات نہایت درجہ کے اعتدال پر واقعہ ہیں جو انسانیت کے سارے درخت کی آبپاشی کرتی ہیں نہ کسی ایک شاخ کی۔اور تمام قولی کی مرتی ہیں نہ کسی ایک قوت کی۔اور درحقیقت اسی اعتدال اور موزونیت کی طرف اشارہ ہے جو فرمایا ہے۔كِتبًا مُتَشَابِها - پھر بعد اس کے مَثَانِی کے لفظ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات معقولی اور روحانی دونوں طور کی روشنی اپنے اندر رکھتی ہیں۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ قرآن میں اس قدر عظمت حق کی بھری ہوئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی آیتوں کے سُننے سے اُن کے دلوں پر قُشَعَرِيرَہ پڑ جاتا ہے اور پھر اُن کی جلدیں اور اُن کے دل یا دالہی کے لئے بہ نکلتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ یہ کتاب حق ہے اور نیز میزان حق یعنی یہ حق بھی ہے اور اس کے ذریعہ سے حق شناخت بھی ہوسکتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اُتارا۔پس اپنے اپنے قدر پر ہر یک وادی به نکلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم اُنکے ہر یک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کر نیوالا ہے اور یہ امرمستلزم کمال تام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے معارف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے اور معارف حقہ کے تمام تشنہ لب اسی سے پانی پیتے ہیں۔اور پھر فرمایا کہ ہم نے قرآن کریم کو اسلئے اُتارا ہے کہ تا جو پہلی قوموں میں اختلاف ہو گئے ہیں اُن کا اظہار کیا جائے۔اور پھر فرمایا کہ یہ قرآن ظلمت سے نور کی طرف نکالتا ہے۔اور اُس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے اور طرح طرح کی الزمر : ۲۴