کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 279

کرامات الصادقین — Page 21

۲۱ كرامات الصادقين طور سے تجویز کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ توریت کی تعلیم کو خاص قوم اور خاص زمانہ کے لحاظ سے یہ مجبوری پیش آگئی تھی کہ سید ھے اور عام قانون قدرت کے موافق توریت کے احکام اُن قوموں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تھے۔اسی لحاظ سے توریت نے اندرونی طور پر یعنی اپنی قوم کے ساتھ یہ بختی کی کہ انتظامی احکام پر زور ڈال دیا اور عفو اور درگذر گویا یہودیوں کے لئے حرام کی طرح ہو گئے اور دانت کے عوض اپنے بھائی کا دانت نکال ڈالنا داخل ثواب سمجھا گیا اور حقوق اللہ میں بھی بہت سخت اور گویا فوق الطاقت تکلیفیں جن سے معیشت اور تمدن میں حرج ہو رکھی گئیں۔ایسا ہی بیرونی احکام توریت کے بھی زیادہ سخت تھے جن کی رُو سے مخالفوں اور نافرمانوں کے دیہات اور شہر پھونکے گئے اور کئی لاکھ بچے قتل کئے گئے اور بڑھوں اور اندھوں اور لنگڑوں اور ضعیف عورتوں کو بھی تہ تیغ کیا گیا۔اور انجیل کی تعلیم میں حد سے زیادہ نرمی اور رحم اور در گذر فرض کی طرح ٹھہرائے گئے۔چنانچہ بیرونی طور پر اگر دشمن دین حملہ کریں تو انجیل کی رُو سے مقابلہ کرنا حرام ہے گو وہ اُن کے رُوبرو اُن کے قوم کے غریبوں اور ضعیفوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اُنکے بچوں کو قتل کر ڈالیں اور اُن کی عورتوں کو پکڑ کر لیجائیں اور ہر طرح سے بے حرمتی کریں اور اُن کے معابد کو پھونک دیں اور اُنکی کتابوں کو جلا دیں غرض کیسے ہی اُنکی قوم کو تہ و بالا کر دیں مگر دشمن مذہب کے ساتھ لڑائی کا حکم نہیں۔ایسا ہی اندرونی طور پر بھی انجیل میں قوم کی باہمی حفظ حقوق کیلئے ۱۲ یا مجرم کو پاداش جرم کے لئے کوئی سزا اور قانون نہیں۔اور صرف رحم اور عفو اور درگذر کے پہلو پر اگر چه جین مت سے بہت کم مگر تا ہم اس قدر زور ڈال دیا گیا ہے کہ دوسرے پہلوؤں کا گویا خیال ہی نہیں۔اگر چہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دینا ایک نادان کی نظر میں بڑی عمدہ تعلیم معلوم ہوگی مگر افسوس کہ ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ کیا کسی زمانہ کے لوگوں نے اسپر عمل بھی کیا اور اگر بفرض محال عمل کیا تو کیا یہی آبادی رہی اور لوگوں کی جان و مال اور امن میں کچھ خلل نہ ہوا۔کیا یہ تعلیم دنیا کے پیدا کرنے والے کے اُس قانون قدرت کے مطابق ہے جس کی طرف انسانوں کی طبائع مختلفہ محتاج ہیں کیا نہیں دیکھتے کہ تمام طبائع جرائم کی سزا دینے کی طرف بالطبع جھک گئیں اور ہر یک سلطنت نے انسداد جرائم کے لئے یہی قانون مرتب کئے جو مجرموں کو قرار واقعی سزادی ۱۱۳