کرامات الصادقین — Page 223
كرامات الصادقين ۲۲۳ اُردو ترجمه ورحمه التام خالق الأشياء پورے رحم کے ساتھ ابتدا سے انتہا تک تمام اشیاء کا وقيــوم الــعـــالم من الابتداء خالق اور کل جہاں کا قائم کرنے والا بھی ہو اور جزا إلى الانتهاء وكان فی یدہ اور سزا کا ہر معاملہ اس کے ہاتھ میں ہو تو طبعا ہر كل أمر الجزاء فيضطر انسان اس کی جناب کی طرف رجوع کرنے اور الإنسان طبعا ليرجع إلى اس کے در پر تذلل اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا جنابه ويتذلّل على بابه ہے اور اپنی تباہی سے بچ جاتا ہے۔اور جب وينجو من تبـابـه وإذا (انسان ) اُس (خدا) کو پالیتا ہے تو کوئی دکھ وجده فلا يَتأَوَّبُه عنده هم اس کے پاس نہیں پھٹکتا اور کوئی وہم اُسے ولا يفزعه وَهُم ويكون خوفزدہ نہیں کر سکتا اور وہ اطمینان پانے والوں من المطمئنين۔وهذا الأمر میں سے ہو جاتا ہے اور یہ امر اس کی فطرت 99 داخل في فطرته ومركوز میں داخل اور اس کی جبلت میں مرکوز اور اس کی في جبلته و متنقش في مُهجته روح میں نقش ہے کہ وہ ہر تر ڈر کے موقع پر ان أنه يطلب صاحب هذه الصفات صفات کی حامل ہستی کی جستجو کرے۔اور اس کی عند الترددات ويوم به مدد سے مشکلات سے نکلنے کی راہ ڈھونڈے۔المخرج من المشكلات حق کے طالب اس کے ذکر پر مشتمل گفتگو کے والطالبون يتعاطون بذکرہ جام نوش کرتے ہیں اور اُس کی طلب کے لئے بحث كأس المنافثة ويقتدحون مباحثے کے چقماق رگڑ کر روشنی حاصل کرتے ہیں۔لطلبه زناد المباحثة ويجوبون ریگستانوں اور جنگلوں میں گھومتے اور اس جامع البراري والفلوات ويطلبون البرکات اور قاضی الحاجات خدا کے نشان تلاش أثر ذلك الجامع للبرکات کرتے ہیں اور مجاہدہ کرتے ہوئے راتیں گزارتے وقاضي الحاجات ويبيتون ہیں۔پس اللہ نے اپنے بندوں کو بشارت دی مجاهدين۔فبشر الله عباده کہ وہ وہی ہستی ہے (جس کے وہ متلاشی ہیں ) ۳۱۵