کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 279

کرامات الصادقین — Page 221

كرامات الصادقين ۲۲۱ اُردو ترجمہ للعبادة بل يتــــر کها کالنائم پیدا نہیں کرتا بلکہ اُسے سوئے ہوئے بیمار کی العليل۔ وأما سِرُّ هذا طرح رہنے دیتا ہے۔ باقی اس بات کا راز الترتيب الذي اختاره فی که بزرگ و برتر خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ الفاتحة ربنا المجید میں جس ترتیب کو اختیار کیا ہے اور دعا اور ذو المجد والعزة و ذکر عبادت کے ذکر سے پہلے اپنے محامد کا ذکر المحامد قبل ذكر الدعاء فرمایا ہے سو یوں جاننا چاہئے کہ اس نے ایسا والعبادة فاعلم أنه فعل اس لئے کیا ہے تا بزرگ و برتر ذاتِ باری ذلك ليذكر عباده عظمة دعا سے قبل اپنے بندوں کو اپنی صفات کی صفات البارئ ذي المجد عظمت یاد دلائے اور اس طرف اشارہ والعلاء قبل الدعاء ويشير کرے کہ وہی حقیقی آقا ہے اس کے سوا نہ تو إلى أنه هو المولى لا مُنعِم کوئی نعمتیں دینے والا ہے اور نہ اس کے سوا إلا هو ولا راحم إلا هو ولا کوئی رحم کرنے والا اور جزا سزا دینے والا مجازي إلا هو ومـنـــه يـأتـي ہے۔ بندوں کو جو بھی انعام و اکرام ملتے كل ما يأتي العباد من الآلاء ہیں وہ اُسی کی طرف سے آتے ہیں ( سورۃ والنعماء ۔ وهذا الترتيب فاتحہ کی ) یہ ترتیب بہترین ہے اور روح کے أحسن وللروح أنفع فإنه لئے بہت فائدہ بخش ہے ۔ وہ سعید انسان پر يُظهر على السعيد منن الله خدائے رحیم کے احسانوں کو خوب ظاہر کرتی الرحيم ويجعله مستعدا ہے۔ اور اُسے خدائے قدیر و کریم کی بارگاہ و مقبلا على حضرة القدیر میں آنے کے لئے تیار کرتی اور اس کی الكريم ويظهر منه تموج طرف متوجہ کرتی ہے۔ اور اس ترتیب سے تام في أرواح الطلباء كما طالبان حق کی روحوں میں پورا جوش پیدا لا يخفى على أهل الدهاء ۔ ہوتا ہے جیسا کہ عقلمندوں پر پوشیدہ نہیں ۳۱۳