کرامات الصادقین — Page 202
كرامات الصادقين ۲۰۲ اُردو ترجمه اللمعان والصفاء ويسوق إليه دوسرے لوگ جواب دہ ہوتے ہیں۔وہ جس کو شربا من التسنيم ويضمّخه چاہتا ہے غذا کے لئے خوشگوار دودھ کی مانند بنا دیتا بالطيب العمیم حتى يُسفر عن ہے اور جسے چاہے چمک اور صفائی میں روشن موتی مرأى وسيم و أرج نسیم کی طرح بنا دیتا ہے اور اُس تک تسنیم کا مشروب للناظرين۔فالحاصل أنه تعالى پہنچا دیتا ہے۔اُسے عطر عمیم کی خوشبو سے ممسوح کر أشار في هذا الدعاء لطلاب دیتا ہے یہاں تک کہ دیکھنے والوں کے لئے اُس الرشاد إلى رحمته العامة کے خوبصورت چہرہ اور خوشبو کی مہک سے پردہ اُٹھا والوداد فكأنه قال إننی دیتا ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رحيم وَسِعَتْ رَحْمَتِى كُلَّ دعا میں طالبانِ ہدایت کے لئے اپنی عام رحمت اور شَيْءٍ أجعل بعض العباد وارثا محبت کی طرف اشارہ فرمایا ہے گویا کہ اس نے یوں لبعض من التفضل والعطاء کہا ہے کہ میں رحیم ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر لأسد باب الشرك الذى | چھائی ہوئی ہے۔میں بعض بندوں کا بعض کو از راہِ يشيع من تخصيص الكمالات فضل و عطا وارث بنا تا ہوں تا کہ میں اُس شرک کا ببعض أفراد من الأصفياء دروازہ بند کر دوں جو بعض برگزیدوں کے ساتھ فهذا هو سِرُّ هذا الدعاء بعض کمالات کے مخصوص کئے جانے کی وجہ سے كأنه يُبشّر الناس بفیض پھیل سکتا ہے۔پس یہ ہے راز اُس دعا کا۔گویا کہ عام وعطاء شامل لأنام اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک عام فیض اور ہمہ گیر ويقول إنى فياض وربّ عطا کی بشارت دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں فیاض العالمین ولست کبخیل ہوں اور پروردگار عالم ہوں اور میں بخیل اور کنجوس وضنين۔فاذکروا بیت فیضی نہیں ہوں۔پس تم میرے فیض کے گھر کو اور جو وما ثم فإن فیضی قدعم کچھ وہاں ہے یاد کرو کیونکہ میرا فیض عام بھی ہے وتم وإن صراطی صراط قد اور مفید بھی۔اور میرا راستہ وہ راستہ ہے جو ۲۹۴