کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 279

کرامات الصادقین — Page 201

كرامات الصادقين ۲۰۱ اردو ترجمہ فاحتملنا منها وقُرَنا و ہماری احتیاج کو دور کر سکیں اور وادیاں (اپنی) اپنی رجعنا بما يسد فقرنا و گنجائش کے مطابق بہ نکلیں (یعنی جتنے انعام کسی سالت أودية بقدرها فأُحْلِلْنا کے ظرف میں سما سکتے تھے وہ اُسے مل گئے ) پس محل الفائزين۔ وهذا هو ہم کامیاب و کامران لوگوں کے مقام اور مرتبہ پر سر إرسال الأنبياء وبعث اُتارے گئے ۔ نبیوں کے بھیجنے اور رسولوں اور برگزیدہ المرسلين والأصفياء لتصبغ لوگوں کی بعثت کا یہی راز ہے کہ ہم اُن بزرگ لوگوں بصبغ الكرام و ننتظم فی کے رنگ میں رنگین ہو جائیں اور اُن کے ساتھ اتحاد سلك الالتيام ونرث الأولين کی لڑی میں پروئے جائیں اور پہلے انعام یافتہ لوگوں من المقربين المنعمين۔ اور مقربین کے وارث بن جائیں۔ ومع ذلك قد جرت سُنّة اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی الله أنه إذا أعطى عبدا كمالا ہے کہ جب وہ اپنے کسی بندہ کو کوئی کمال عطا کرتا وطفق الجهال يعبدونه ضلالا ہے اور جاہل لوگ اپنی گمراہی کی وجہ سے اس کی ويُشركونه بالرب الكريم عزةً عبادت کرنے لگ جاتے ہیں اور اُسے عزت و وجلالا بل يحسبونه ربا فعالا جلال میں رب کریم کا شریک قرار دے دیتے ہیں فيخلق الله مِثْلَه ويُسمّيه بتسميته بلکہ اسے رب فعال خیال کرنے لگ جاتے ہیں تو ويضع كمالاته في فطرته اللہ تعالیٰ اس کا کوئی مثیل پیدا کر دیتا ہے اور اسے وكذلك يجعل لغيرته ليبطل ما اُس کا نام دیتا ہے اور اُس کے کمالات بھی اُس خطر في قلوب المشركين (مثیل) کی فطرت میں رکھ دیتا ہے اور وہ اپنی يفعل ما يشاء ولا يُسأل عما غیرت کی بنا پر ایسا کرتا ہے تا مشرکوں کے دلوں 91 يفعل وهم من المسؤولين۔ میں جو خیالات پیدا ہوئے انہیں غلط ثابت يجعل من يشاء كالدَّرِّ السائغ کر دے۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو وہ کرتا ہے للاغتذاء أو كالدرة البيضاء فی اُس کے متعلق وہ جواب دہ نہیں ہوتا حالانکہ ۲۹۳