کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 279

کرامات الصادقین — Page 200

كرامات الصادقين ۲۰۰ اُردو ترجمه المتقدمين۔فعلمنا دعاء اور اس کے ذریعہ ہمیں (اپنے) برگزیدہ بندوں مَرَّةً وعطاءً وجعلنا منہ میں شامل کر لیا۔پس ہم اُس کے سکھانے کے کرلیا۔من المستخلصين۔فنحن مطابق دُعا مانگتے ہیں اور اس کے سمجھانے کے ندعو بتعليمه ونطلب مطابق اُس سے طلب کرتے ہیں۔اس حالت میں منه بتفهيمه فرحین برفده کہ ہم اُس کے انعام پر بہت خوش ہیں اور اُس کی حمد مفصحين بحمده قائلين : بیان کرتے ہوئے ان الفاظ میں دعا کرتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاط صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔اور عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ونحن ہم اس دعا میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے وہ تمام نسأل الله لنا في هذا الدعاء كل نعمتیں مانگتے ہیں جو نبیوں کو دی گئی تھیں اور اُس ما أُعطى للأنبياء من النعماء سے ہم یہ بھی مانگتے ہیں کہ ہم نبیوں کی طرح ونسأله أن نثبت كالأنبياء على صراط مستقیم پر ثابت قدم رہیں اور ظلم سے بچیں اور الصراط و نتجافى عن الاشتطاط ہر قسم کی ناپاکی اور پلیدی سے پاک ہو کر اور وندخل معهم فی مربع حظيرة پروردگار عالم کی بارگاہ کی طرف جلدی کرتے ہوئے القدس متطهرين من كل أنواع ان ( نبیوں) کے ساتھ ہی حَظِيرَةُ الْقُدس کی الرجس ومبادرين إلى ذَرَى ربِّ منزل میں داخل ہو جائیں۔پس یہ بات مخفی نہیں کہ العالمين۔فلا يخفى أن الله جعلنا اللہ تعالیٰ نے اس دعا میں ہمیں نبیوں کے اظلال في هذا الدعاء كاظلال الأنبياء قرار دیا ہے اور ہمیں تمام ظاہر اور مخفی اور بندھی ہوئی وأورثنا وأعطانا المعلوم اور مہر کی ہوئی، غرض ہر قسم کی برکتوں اور نعمتوں کا والمكتوم والمعكوم والمختوم وارث ٹھہرایا اور عطا کی ہیں جن میں سے ہم نے ومن كل الآلاء والنعماء اپنے مقدور بھر اُٹھالی ہیں اور اتنی لے آئے ہیں جو ۲۹۲