کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 279

کرامات الصادقین — Page 181

كرامات الصادقين ۱۸۱ اُردو ترجمہ وإلهاماته واستجاباته قبولیت دعا سے رجوع کرنا اور اسے اپنے جلیل وجَعله طودًا من أطواده القدر لوگوں میں سے جلیل القدر بنانا اور اسے اپنے وإدخاله في عباده المحفوظين زير حفاظت بندوں میں داخل کر لینا ہے۔اس کے وقوله يُنَارُ كُونِی بَرْدًا لئے اللہ کا فرمان يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَمَّا عَلَى إِبْرَهِيْمَ وجَعَله وَسَلَّمًا عَلَى إِبْرهِيم۔1 اور اس کا من الطيبين الطاهرين فهذا هو اپنے پاک اور مقدس بندوں میں شمار کرنا ہی الشفاءُ مِن حُمّى المعاصی گناہوں کے بخار کی شفاء اور موافق دواؤں والعلاج بأوفق الأدوية والأغذية اور غذاؤں سے علاج کرنا ہے اور ایسی لطیف والتدبير اللطيف الذي لا يعلمه تدبیر ہے جسے رب العالمین کے سوا اور کوئی إلا ربّ العالمين۔نہیں جانتا۔ثم اعلم أن الله في هذه السورة پھر جان لو کہ اللہ تعالیٰ اس مبارک سورۃ میں المباركة يُبين للمؤمنين ما كان مومنوں پر یہ واضح کرتا ہے کہ اہل کتاب کا کیا انجام آخر شأن أهل الكتاب و يقول ان ہوا اور فرماتا ہے کہ یہودیوں نے اپنے اوپر اليهود عصوا ربهم بعد ما نزلت اللہ تعالیٰ کے انعامات نازل ہونے اور عليهم الإنعامات وتواترت (اس کے ) فضلوں کے پے در پئے اُترنے کے التفضلات فصاروا قوما مغضوبا بعد اپنے پروردگار کی نافرمانی کی پس وہ ایک عليه والنصارى نسوا صفاتِ مغضوب علیہم قوم بن گئے۔اور نصاری نے اپنے ربهم وأنزلوه منزل العبد الضعيف رب کی صفات کو بھلا دیا اور اُسے ایک کمزور اور عاجز العاجز فصاروا قومًا ضالين بندہ قرار دے دیا پس وہ ایک گمراہ قوم بن گئے۔وفي السورة إشارة إلى أن اور اس سورۃ میں اس طرف اشارہ ہے أمر المسلمين سيؤول إلى أمر کہ مسلمانوں کا معاملہ بھی آخری زمانہ میں لے اے آگ ! تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈی بھی ہو جا اور اس کے لئے سلامتی کا باعث بھی بن جا۔(الانبیاء: ۶۰) ۲۷۳