کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 279

کرامات الصادقین — Page 174

كرامات الصادقين ۱۷۴ اُردو ترجمه غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ ہے اور آخری غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وفي الآية الأولى بيان بدءِ الخَلقِ وَلَا الضَّالِّينَ ہے۔پہلی آیت میں ابتداء آفرینش وفي الأخرى إشارة إلى قوم تقوم کا بیان ہے اور آخری آیت میں اشارہ اس قوم القيامة عليهم وعلى أمثالهم من اور یہود و نصاریٰ میں سے ان جیسوں کی طرف اليهود والمتنصرين۔وفى تعیین ہے جن پر قیامت برپا ہوگی۔اور سات آیات سبع آية إشارة إلى أن عمر الدنيا معین کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا کی عمر سات سبعة كما أن أيام أسبوعنا سبعة۔ہے۔جیسا کہ ہمارے ہفتے کے سات دن ہیں وما ندرى حقيقة السبعة علی اور اس سات کے عدد کی حقیقت پورے طور پر وجه التحقيق أهى آلاف كآلافنا ہمیں معلوم نہیں کہ وہ ہمارے ہزار سالوں کی أو غير ذلك ولكنا نعلم أنه ما طرح ہزار سال ہیں یا کچھ اور۔البتہ ہم یہ بقى من السبعة إلا واحدًا وقد جانتے ہیں کہ ان سات میں سے صرف ایک باقی أراد الله تصرفات جديدة بعد ہے اور یہ کہ ان کے گذر جانے کے بعد اللہ نے انقضائها فيُهلك القرون الأولى نئے نئے تصرفات کا ارادہ فرمایا ہے۔تب (اللہ ) عند اختتامها ويخلق الآخرين۔ان کے اختتام پر قرونِ اولیٰ کو ہلاک کر دے گا اور وفي الآية السادسة یعنی صِرَاط آخرین کو پیدا فرمائے گا۔اور چھٹی آیت الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ نكتة أخرى وهي أن آدم قد میں ایک اور نکتہ ہے اور وہ یہ کہ آدم چھٹے روز خُلق في يوم السادس و انعم پیدا کئے گئے اور ان پر انعام فرمایا گیا اور ان میں عليه ونفخ فيه روح الحياة في جمعہ کے دن عصر کے بعد زندگی کی روح پھونکی الجمعة بعد العصر و کذلک گئی۔اسی طرح چھٹے ہزار میں ایک عظیم انسان يُخلق رجل في الألف السادس | پیدا کیا جائے گا جو ان لوگوں کا آدم ہے جنہوں وهو آدم قوم أضاعوا ايمانهم نے اپنے ایمان کو ضائع کر دیا۔سو وہ آئے گا ۲۶۶