کرامات الصادقین — Page 173
كرامات الصادقين ۱۷۳ اُردو ترجمه الاعتقاد ليس كعین الیقین نہیں ہوسکتا کیونکہ سنی سنائی بات مشاہدہ کی وليس الخبر كالمعاينة طرح نہیں ہوتی اور آنکھیں رکھنے والوں ولا يستوى حال أولى الأبصار اور اندھوں کی حالت یکساں نہیں ہوتی۔والعـمـیـن - بل من يُدرب بلکہ جس شخص کو دعاوں کی قبولیت کا پورا تجربہ باستجابة الدعوات حق التدرّب ہو اور اس کے ساتھ ہی مشاہدات بھی ہو و كان معه أثر من المشاهدات چکے ہوں ایسے شخص کو دعاؤں کی قبولیت میں فلا يبقى له شک و لا ریب کوئی شک و شبہ نہیں رہ سکتا اور جو لوگ اس في قبولية الأدعية والذين بارہ میں شک کرتے ہیں اس کا سبب اُن کی يشكون فيها فسببه حرمانهم قبولیتِ دعا کے حصہ سے محرومی، اپنے من ذلك الحظ ثم قله پروردگار کی طرف اُن کی توجہ کی کمی اور اس التفاتهم إلى ربهم وابتلائهم سلسلہء اسباب میں اُن کا اُلجھ جانا ہے جو بسلسلة أسباب توجد في واقعاتِ فطرت اور مظاہر قدرت میں پائے واقعات الفطرة وظهورات جاتے ہیں۔پس اُن کی نگاہیں ان موجودہ القدرة فما ترقتُ أعينهم مادى اسباب سے جو آنکھوں کے سامنے فوق الأسباب المادية ہوں اوپر نہیں اُٹھتیں۔لہذا وہ اُن تمام الموجودة أمام الأعين أمور كو مستبعد خیال کرتے ہیں جن پر اُن کی فاستبعدوا ما لم تُحِط بها عقلیں حاوی نہ ہوسکیں اور وہ ہدایت پانے آراؤهم وما كانوا مهتدين۔والے نہیں ہوتے۔وفي هذه السورة نكات شتى اور اس سورۃ میں متعدد نکات ہیں۔ہم ان نريد أن نكتب بعضها ومنها أنّ میں سے بعض کو تحریر میں لانا چاہتے ہیں۔ان میں الفاتحة سبع آياتٍ أولها سے ایک یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کی سات آیات ہیں جن الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ وآخرها میں سے پہلی آیت الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ۲۶۵