کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 279

کرامات الصادقین — Page 14

كرامات الصادقين ۱۴ میں نے معلوم کر لیا ۔ خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ہرگز بدل نہیں سکتا اور اسکی مخلوقات میں سے کرلیا۔ بدل اور ایک پتہ بھی ایسا نہیں جسکو چند معلومہ خواص میں محدود کہہ سکیں بلکہ اسکی ہر یک مخلوق خواص غیر محدودہ اپنے اندر رکھتی ہے اور اسی وجہ سے ہر یک مخلوق میں صفت بے نظیری پائی جاتی ہے اور اگر تمام دنیا اُسکی نظیر بنانا چاہے تو ہرگز اُن کے لیے میسر نہ ہو جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ فرما دیا ہے کہ مکھی بنانے پر بھی کوئی قادر نہیں ہو سکتا۔ کیوں قادر نہیں ہو سکتا اسکی یہی تو وجہ ہے کہ مکھی میں بھی اس قدر عجائبات صنعت صانع ہیں کہ انسانی طاقتوں بلکہ تمام مخلوق کی قوتوں سے بڑھ کر ہیں پھر خدا تعالیٰ کا کلام کیوں ایسا گرا ہوا اور ادنی درجہ کا سمجھا جاوے کہ جو اپنے خواص اور حقائق کے رُو سے مکھی کے درجہ پر نہیں ۔ کیا یہ وہی کلام نہیں جس کے حق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ نَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسَ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ل یعنی اگر جن و انس اس بات پر اتفاق کر لیں کہ اس قرآن کی نظیر بناویں تو ہرگز بنا نہیں سکیں گے اگر چہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔ بعض نادان مُلّا اَخْزَاهُمُ اللہ کہا کرتے ہیں کہ یہ بے نظیری صرف بلاغت کے متعلق ہے لیکن ایسے لوگ سخت جاہل اور دلوں کے اندھے ہیں اس میں کیا کلام ہے کہ قرآن کریم اپنی بلاغت اور فصاحت کے رُو سے بھی بے نظیر ہے لیکن قرآن کریم کا یہ منشاء نہیں ہے کہ اُس کی بے نظیری صرف اسی وجہ سے ہے بلکہ اُس پاک کلام کا یہ منشاء ہے کہ جن جن صفات سے وہ متصف کیا گیا ہے اُن تمام صفات کے رُو سے وہ بینظیر ہے مگر یہ حاجت نہیں کہ وہ تمام صفات جمع ہو کر بینظیری پیدا ہو بلکہ ہر یک صفت جدا گا نہ بینظیری کی حد تک پہنچی ہوئی ہے اب ضروری سمجھ کر قرآن کریم کی وہ صفات کاملہ جو اس پاک کلام میں مندرج ہیں جن کی رُو سے قرآن کریم بینظیر کہلاتا ہے بطور نمونہ کسی قدر ذیل میں لکھی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ ا بنی اسرائیل : ۸۹ ١٠٦