کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 279

کرامات الصادقین — Page 125

كرامات الصادقين ۱۲۵ اُردو ترجمه يَزِيدُ الشَّقِيَّ شَقَاوَةً طُولُ آمُنِهِ وَيُرْخِي الْمُهَيْمِنُ حَبْلَهُ ثُمَّ يَجْذِبُ بد بخت کا لمبے عرصہ تک بے خوف رہنا اسے بدبختی میں بڑھا دیتا ہے اور خدائے مہیمن اس کی رسی کو ڈھیلا کرتا ہے اور پھر اسے کھینچ لیتا ہے۔إِذَا مَا قَصَدْتُ إِشَاعَةَ الْحَقِّ فِي الْوَرَى صَدَدْتَ وَ تُبْدِي كُلَّ خُبْثٍ وَ تَعْلُبُ اور جب میں نے مخلوق میں حق کی اشاعت کا ارادہ کیا تو روک بنا اس حال میں کہ تو خباثت ظاہر کر رہا اور عیب لگا رہا ہے۔وَأَنْتَ تَرَى الْإِسْلَامَ قَفْرًا كَأَنَّهُ مَقَابِرُ أَمْوَاتٍ وَّ أَرْضٌ سَبْسَبُ اور تو اسلام کو چٹیل میدان خیال کر رہا ہے گویا کہ وہ قبرستان ہے اور ایک بے آب و گیاہ زمین ہے۔تَصُولُ الْعِدَا مِنْ جَهْلِهِمْ وَعِبَادِهِمُ عَلَى صُحُفِ مَوْلَانَا وَكُلٌّ يُكَذِّبُ دشمن اپنی نادانی اور عناد سے حملہ کر رہے ہیں ہمارے مولا کے صحیفوں پر۔اور ہر ایک ( دشمن ) انہیں جھٹلا رہا ہے۔وَهَدَى كَسِمُطَى لُؤْلُةٍ وَّ زَبَرْجَدٍ بِهِ الطَّفْلُ يَلْهُوَ مِنْ عِنَادٍ وَّ يَجْدِبُ اور قرآن تو ایک ہدایت ہے۔(خوبصورتی میں ) موتیوں اور زبرجد کی دولڑیوں کی طرح ہے۔پر طفلانہ ذہن بوجہ عناد اس سے کھیلتا اور اس پر عیب لگاتا ہے۔وَمِنْ كُلِّ طَرْفِ تَمْطُرَنَّ سِهَامُهُمْ فَهَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ يَوْمٌ عَصَبْصَبُ اور ہر طرف سے ان کے تیر برس رہے ہیں۔سو یہ اسلام پر ایک سخت دن ہے۔ترای هذِهِ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ بِعَيْنِنَا فَتَشْرِفُ عَيْنُ الرُّوْحِ وَالْقَلْبُ يَشْجَبُ یہ بات ہم ہر قوم کی طرف سے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔سوروح کی آنکھ آنسو بہا رہی ہے اور دل گڑھ رہا ہے۔۲۱۷