کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 279

کرامات الصادقین — Page 123

كرامات الصادقين ۱۲۳ اُردو ترجمہ وَلَوْ لَمْ يَكُنُ فِي الْقَلْبِ غَيْرُ تَغَيُّظِ فَلَا الْقَلْبُ إِلَّا جَمُرَةٌ تَتَلَهَّبُ اور اگر دل میں سوائے غصہ کے اور کچھ نہ ہو تو پھر دل نہ ہوا بھڑکتی ہوئی چنگاری ہی ہوئی۔وَلَا تَحْسَبَنُ قَلْبِي إِلَى الصِّغْنِ مَائِلًا تَعَـاشِيبُ أَرْضِى خُلَّةٌ وَتَحَبُّبُ تو میرے دل کو کینے کی طرف مائل خیال نہ کر۔میری زمین کے گھاس تو دوستی اور محبت ہیں۔كَمِثْلِكَ عَادٍ مَّارَأَيْتُ وَلَاعِنَا أَقَوْلُكَ قَوْلٌ أَوْسِنَانٌ مُّذَرَّبُ تیرے جیسا دشمن اور لعنت کرنے والا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔کیا تیرا کوئی قول ہے یا کہ تیز کیا ہوا نیز ه؟ أَرَدْتَ وَبَالِيُّ لَكِنِ اللَّهُ صَانَنِي تَنَدَّمُ فَقَدْ فَاتَ الَّذِي كُنْتَ تَطْلُبُ تو نے میر ا و بال چاہا لیکن اللہ نے مجھے محفوظ رکھا۔پشیمان ہو کہ جو کچھ تو طلب کرتا تھا وہ ہونے سے رہ گیا ہے۔وَ لَسْتَ عَلَى مُسَيْطِرًا وَّ مُحَاسِبًا وَمَا يُعْطِيَنَّ الرَّبُّ أَفَأَنْتَ تَسُلُبُ تو مجھ پر کوئی داروغہ اور محاسب نہیں ہے۔جو کچھ مجھے ( میرا ) رب دے رہا ہے کیا تو (اسے ) چھین سکتا ہے؟ تَرَفَّقُ فَإِنَّ الرِّفْقَ لِلنَّاسِ جَوْهَرٌ وَمَا يَتْرُكَنُ سَيْفٌ فَبِالرِّفْقِ يُجْلَبُ نرمی اختیار کر کیونکہ نرمی لوگوں کی خوبی ہے اور جو کام تلوار سے نہ ہو سکے وہ نرمی سے حاصل ہوسکتا ہے۔وَلَا تَشْرَبَنْ جَهْلًا أَجَاجَ عَدَاوَةٍ وَوَاللَّهِ إِنَّ السّلْمَ أَحْلَى وَ اعْذَبُ اور نادانی سے عداوت کا کھاری پانی نہ پی اور خدا کی قسم اصلح بہت شیریں اور بہت میٹھی ہے۔وَمَنْ كَانَ لَا يَتَأَدَّبَنُ مِنْ نَّاصِحٍ فَلَهُ دَوَاهِي الدَّهْرِ نِعْمَ الْمُؤَدِّبُ اور جو ناصح سے ادب حاصل نہیں کرتا تو اس کے لیے حوادث زمانہ اچھے موڈب ہیں۔۲۱۵