کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 279

کرامات الصادقین — Page 122

كرامات الصادقين ۱۲۲ اُردو ترجمہ اَلَا أَيُّهَا الشَّيْخُ الَّذِي يَتَجَنَّبُ تَرَى إِنْ تَتُبُ مِنِّي الْهَوَى وَالتَّحَبُّبُ سن اے شیخ! جو ( مجھ سے ) کنارہ کش ہے اگر تو تو بہ کرے تو میری طرف سے الفت اور محبت پائے گا۔وَلَسْتُ بِرَاضِ اَنْ اُلَاعِنَ لَاعِنَا فَاخْتَارُ نَهُجَ الْعَفْوِ وَالْقَلْبُ مُغْضِبُ اور میں اس بات پر خوش نہیں کہ لعنت کرنے والے پر لعنت کروں۔میں عفو کا طریق ہی اختیار کرتا ہوں حالانکہ دل غضبناک ہے۔رَأَيْتُ بَسَاتِينَ الْهُدَى مِنْ تَذَلُّلِ وَإِنِّي بِآلَامِي عُذَيْقٌ مُّرْجَبُ میں نے فروتنی کے ذریعہ ہدایت کے باغ دیکھے ہیں اور باوجود اتنی تکلیفوں کے میں کھجور کی ایسی پھلدار ٹہنی ہوں جسے کثرت شمر کی وجہ سہارا دیا گیا ہے۔تَسُبُّ وَإِنْ أَعْذِرُكَ فِيمَا تَسُبُّنِي وَلَكِنْ أَمَامَ اللَّهِ تَعْصِي وَتُذْنِبُ تو مجھے گالیاں دیتا ہے اور اگر میں ان گالیوں میں تجھے معذور بھی سمجھوں پھر بھی اللہ کے سامنے تو نا فرمانی کر رہا ہے اور گنہگار ہو رہا ہے۔تَصُولُ عَلَيَّ لِهَتْكِ عِرْضِی وَ اَعْتَلِى وَ أَعْطَانِيَ الرَّحْمَنُ مَا كُنْتُ أَطْلُبُ تو تو میری ہتک عزت کے لیے مجھ پر حملہ کرتا ہے اور میں بلند ہوتا ہوں اور مجھے رحمان نے وہ کچھ دیا ہے جو میں طلب کرتا ہوں۔تَرى عِزَّتِي يَوْمًا فَيَوْمًا فَتَنْشَوِى وَتَهْذِى كَأَنَّكَ بِالْهَرَاوِي تُضْرَبُ تو میری عزت کو دن بدن ترقی پر پاتا ہے سوتو جلتا بھنتا ہے اور بکواس کرتا ہے جیسے کہ تجھے لاٹھیوں سے مارا جا رہا ہے۔أَرى أَنَّ نَشْزِئُ فِيْكَ كَالرُّمْحِ لَاعِجٌ وَيُلَا عِجَنَّكَ شَأْنُنَا الْمُتَرَقَّبُ میں دیکھتا ہوں کہ میری ترقی تجھ میں نیزے کی طرح درد پیدا کرنے والی ہے اور ضرور دردناک کرے گی تجھے ہماری وہ حالت جس کا انتظار ہے۔۲۱۴