کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 279

کرامات الصادقین — Page 121

كرامات الصادقين ۱۲۱ اُردو ترجمہ وَ يَدْرِى أَنَاسًا كَفَرُوْنَا وَكَذَّبُوا إِذَا ادَّارَكُوا لِنِضَالِهِمْ وَتَحَذَّبُوا اور وہ ان لوگوں کو جانتا ہے جنہوں نے ہماری تکفیر اور تکذیب کی۔جب وہ اپنی لڑائی کے لیے جمع ہو گئے اور ٹولیاں بنالیں۔قَلَانِى الْوَرى حَتَّى الْأَقَارِبَ كُلُّهُمْ فَمِنْهُمْ كَشُعْبَانٍ وَّمِنْهُمْ عَقْرَبُ مخلوق نے مجھ سے دشمنی کی حتی کہ سب اقرباء نے بھی۔بعض تو ان میں سے اثر دھا کی طرح ہیں اور بعض ان میں سے بچھو ہیں۔وَ مَا نَتَّقِي حَرًّا بِتِلْكَ الْهَوَاجِرِ وَفِي اللَّهِ مَا نُؤْدَى وَ نُرُمَى وَ نُجُذَبُ اور ہم گرمی سے نہیں بچاؤ کرتے ان دو پہروں میں۔اور خدا کی راہ میں ہی ہے جو ہمیں تکلیف دی جاتی ہے اور تیر مارے جاتے ہیں اور ہمیں گھسیٹا جاتا ہے۔وَ إِنِّي بِحَضْرَتِهِ أَمُوتُ بِفَضْلِهِ فَإِنْ لَّمْ يَنَلْنَا الْعِزَّ فَالذُّلُّ أَطْيَبُ اور میں تو خدا کے فضل سے اس کے حضور ہی مروں گا اگر ہمیں عزت نہ ملی تو ذلت ہی اچھی ہے۔اَلَا كُلَّ مَجْدٍ قَدْ طَرَحْتُ كَجِيْفَةٍ وَفِي كُلِّ أَوْقَاتِي إِلَى اللَّهِ أُجْلَبُ سنو! ہر عزت کو میں نے مردار کی طرح پھینک دیا ہے اور اپنے تمام وقتوں میں خدا کی طرف ہی کھنچا چلا جاتا ہوں۔وَإِلَيْهِ أَسْعَى مِنْ جَنَانِي وَمُهْجَتِي وَلِغَيْرِهِ مِنِّي الْقَلَا وَالتَّجَنُّبُ اور اسی کی طرف میں اپنے دل و جان سے دوڑ رہا ہوں اور اس کے غیر سے مجھے نا راضگی اور کنارہ کشی ہے۔وَإِنِّي أَعِيُشُ بِهَذِهِ كَمُسَافِرٍ وَفِي كُلِّ آنِ مِنْ هَوَى أَتَغَرَّبُ میں اس دنیا میں مسافر کی طرح زندگی بسر کر رہا ہوں اور ہر لحظہ ہوائے نفسانی سے دور رہتا ہوں۔وَمَا لِي إِلَى غَيْرِ الْمُهَيْمِنِ رَغْبَةٌ وَعَنْ كُلَّ مَا هُوَ غَيْرُ رَبِّي أَرْغَبُ اور مجھے خدائے نگہبان کے غیر کی طرف کوئی رغبت نہیں اور ہر اس چیز سے جو میرے رہے کا غیر ہے میں بے رغبت ہوں۔۲۱۳